امریکا میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں، جہاں کھاد اور ڈیزل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے کسانوں کو شدید مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔
ریاست نارتھ کیرولائنا کے کسان اینڈی کوریہر کے مطابق وہ اس وقت مکئی اور سویا بین کی فصلوں کی کاشت کی تیاریوں میں مصروف ہیں، تاہم کھاد کی قیمتوں میں اچانک اضافے اور سپلائی میں تعطل نے ان کے منصوبوں کو متاثر کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چند ہفتے قبل آرڈر کی گئی کھاد تاحال موصول نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران سے آنے والی اشیا مہنگی، سرحدی تجارت بھی متاثر ہونے کا خدشہ
ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش نے کھاد کی ترسیل کو شدید متاثر کیا، جس کے باعث قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ کوریہر کے مطابق نائٹروجن کھاد کی قیمت میں کم از کم 40 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ یوریا کی قیمت میں تقریباً 50 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ کھاد کے استعمال میں ایک تہائی کمی پر مجبور ہو گئے ہیں، جس سے پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
اسی طرح ایک اور کسان رسل ہیڈرک، جو تقریباً 1000 ایکڑ پر کاشتکاری کرتے ہیں، کا کہنا ہے کہ ان کی 75 فیصد کھاد مہنگے داموں خریدی گئی۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر کسانوں کے پاس کھاد ذخیرہ کرنے کی سہولت نہیں ہوتی، اس لیے وہ بروقت خریداری نہیں کر پاتے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کی ایران کے خلاف جنگی حکمت عملی پر برطانیہ برہم
دوسری جانب مارش ویل کے کسان ڈیرک آسٹن نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کی خبر ملتے ہی انہوں نے فوری طور پر کھاد خریدنے کی کوشش کی، تاہم قیمتوں میں اضافہ ناگزیر تھا۔ ان کے مطابق صورتحال کسانوں کے لیے تباہ کن ثابت ہورہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کھاد کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار اجارہ داری کو قرار دیتے ہوئے کسانوں کی حمایت کا یقین دلایا ہے، تاہم کسانوں کی جانب سے حکومتی پالیسیوں پر سوالات بھی اٹھائے جارہے ہیں۔
کوریہر کا کہنا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کے حامی رہے ہیں، لیکن اس جنگ کے نتائج پر مکمل غور نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عام امریکی شہری اس کے ضمنی اثرات کا شکار ہورہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا کی ایران امریکا جنگ بندی برقرار رکھنے اور مذاکرات جاری رکھنے کی اپیل
ماہرین کے مطابق امریکی زرعی معیشت گزشتہ چند برسوں سے دباؤ کا شکار ہے، جہاں آمدن میں کمی اور اخراجات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہر اقتصادیات چیڈ ہارٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ طویل ہوئی تو 2027 کی فصل کے لیے صورتحال مزید تشویشناک ہوسکتی ہے۔
کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع ختم ہو کر آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جاتی ہے تو ہی حالات میں بہتری کی امید کی جا سکتی ہے، بصورت دیگر زرعی شعبہ مزید بحران کا شکار ہوسکتا ہے۔














