وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ گزشتہ 3 سال میں 100 ارب روپے ملک سے باہر گئے، کاروباری برادی اس پیسے کا 30 فیصد ملک میں واپس لائے،حکومت تاجروں کے تحفظات دور کرے گی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ایف آئی اے کو بزنس فرینڈلی کریں گے، پرانی انکوائریوں کو ختم کریں گے، ہم نے اپنے ملک کو سنوارنا ہے، ابھی جو موقع ہمارے پاس آیا ہے اس سے فائدہ اٹھانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرداخلہ محسن نقوی کا ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس میں جدید ترین مانیٹرنگ نظام کا افتتاح
انہوں نے کہا کہ چند لوگوں کی وجہ سے پوری بزنس کمیونٹی کو سزا نہیں دی جا سکتی، 3 سالوں میں پاکستان سے 100 ارب روپیہ باہر گیا ہے، اگر کوئی یہ کہے کہ یہ معلوم نہیں کیا جا سکتا کہ پیسا کیسے باہر گیا، تو کراچی سے ایک دو لوگوں کو اٹھا لیا جائے تو پتا چل جائے گا کہ پیسا کیسے باہر گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں بیرون ملک گئے پیسے میں سے اگر 10 فیصد بھی آ جائے تو کافی فائدہ ہو جائے گا، فیلڈ مارشل جب بھی کوئی بات کرتے ہیں یا زبان دیتے ہیں تو وہ اسے پورا کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی کے اسلام آباد میں مختلف منصوبوں کے دورے، پولیس اور جیل نظام میں بہتری کی ہدایات
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف بھی کوئی وعدہ کرتے ہیں تو اسے ضرور پورا کرتے ہیں، فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کی ملک کے لیے کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بزنس مین کا جو پیسہ بیرون ملک پڑا ہے وہ واپس لے آئیں تو انہیں اس کا فائدہ بھی ملے گا، تاجروں کے تحفظات حکومت دور کرے گی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ایف آئی اے اور ٹیکس کے نظام کو آسان سے آسان کریں گے، تاجر برادری کو درپیش مسائل حل کریں گے، بجٹ سے پہلے تاجر بیرون ملک پڑے پیسے کا 10 فیصد واپس لائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں بعض بڑے گروپس کی جانب سے کی جانے والی بھاری ٹرانزیکشنز کا پتا چلا لیا گیا ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ان رقوم کا سراغ نہیں لگایا جا سکتا تو یہ ان کی بھول ہے، کیونکہ صرف چند لوگوں سے تفتیش کے ذریعے ہی تمام حقائق سامنے لائے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی کی زیر صدارت پی سی بی بورڈ آف گورنرز کا 82 واں اجلاس، اہم فیصلوں کی منظوری
تاجروں کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے یقین دلایا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف آئی اے‘ کو بزنس فرینڈلی بنایا جا رہا ہے تاکہ کاروباری طبقے کو بلاوجہ ہراساں نہ کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ صرف ایک یا دو فیصد لوگوں کی غلطیوں کی سزا پوری تاجر برادری کو نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاجروں کے لیے ویزا سہولیات سے متعلق تجاویز جلد وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کی جائیں گی۔
محسن نقوی نے سرمایہ کاروں کو ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جتنا منافع ملتا ہے وہ دنیا میں کہیں اور نہیں مل سکتا، اس لیے سرمایہ کار ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری اداروں میں کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی جائے گی، وزیر داخلہ محسن نقوی
وزیر داخلہ نے منی چینجرز کے کردار پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کا استعمال سیاحوں کے بجائے نجی رقوم کی منتقلی کے لیے ہو رہا ہے، جس پر وزیر خزانہ کے ساتھ اہم مشاورت کی گئی ہے۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ حکومت پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی کو 99 سے بہتر بنا کر 50 تک لانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کو رواں ماہ متحدہ عرب امارات کا ساڑھے تین ارب ڈالر کا قرضہ واپس کرنا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔














