امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو امریکی ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کے لیے ایک قرارداد سینیٹ میں پیش کریں گے، جس سے امریکی کانگریس میں اسرائیل کی حمایت کا حقیقی اندازہ لگایا جا سکے گا۔
سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا کہ وہ اس ہفتے اس قرارداد پر ووٹنگ کروانے کے لیے ‘فورس دی ووٹ’ کا طریقہ اختیار کریں گے، جس کے تحت سینیٹ میں اکثریتی قیادت کی منظوری کے بغیر بھی بل پیش کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ قرارداد اسرائیلی فوج کو تقریباً نصف ارب ڈالر مالیت کے بموں اور بلڈوزرز کی فروخت روکنے سے متعلق ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اٹلی نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدہ معطل کر دیا
انہوں نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ غزہ میں جاری جنگ کے تناظر میں مزید امریکی فوجی امداد کی ضرورت نہیں ہے۔
تاہم یہ قرارداد ریپبلکن اکثریت والی سینیٹ میں منظور ہونے کے امکانات کم ہیں، البتہ اس سے ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اسرائیل کی حمایت میں کمی کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔ گزشتہ سال بھی سینیٹر برنی سینڈرز کی جانب سے پیش کردہ اسی نوعیت کی قرارداد 27 کے مقابلے میں 70 ووٹوں سے مسترد ہو گئی تھی، تاہم اس وقت بھی اسے اسرائیل کے لیے کم ہوتی حمایت کی علامت قرار دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: اسرائیل میں نیتن یاہو کیخلاف احتجاج شدت اختیار کرگیا، ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر آگئے
رپورٹس کے مطابق امریکا میں اسرائیل کے لیے عوامی حمایت میں مسلسل کمی آ رہی ہے، خاص طور پر نوجوانوں اور ڈیموکریٹس کے درمیان۔ ایک حالیہ سروے میں صرف 46 فیصد امریکیوں نے اسرائیل کے حق میں رائے دی، جبکہ ڈیموکریٹس میں یہ شرح مزید کم دیکھی گئی۔
ادھر امریکی پالیسی پر تنقید میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، اور بعض حلقے غزہ جنگ اور ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں۔اسرائیل کو دی جانے والی فوجی امداد پر نظرثانی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔













