جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ایران کی یورینیئم افزودگی روکنے کا فیصلہ تکنیکی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کا ہوگا، تاہم کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے سخت بین الاقوامی تصدیق ناگزیر ہوگی۔
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیؤل میں پریس بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان افزودگی کی معطلی پر بات چیت جاری ہے تو اس کی مدت (5، 10 یا 20 سال) کے حوالے سے تکنیکی طور پر کوئی بڑا فرق نہیں، بلکہ یہ مکمل طور پر سیاسی اعتماد کا معاملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب بات معطلی کی آتی ہے تو یہ ایک سیاسی فیصلہ ہوتا ہے۔ تکنیکی اعتبار سے 5، 10 یا 20 سال میں کوئی خاص فرق نہیں، اصل معاملہ یہ ہے کہ اعتماد کی سطح کیا ہے۔
گروسی نے واضح کیا کہ وہ ان مذاکرات کا براہ راست حصہ نہیں، اس لیے ان کی تفصیلات کی تصدیق نہیں کر سکتے۔
یہ بھی پڑھیے امریکا، اسرائیل نے ایران پر حملوں کے لیے آئی اے ای اے کی معلومات استعمال کیں، روس
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان فروری کے آخر سے جاری کشیدگی اور تنازع کے باعث عالمی توانائی منڈیاں متاثر ہوئی ہیں اور پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی نازک جنگ بندی بھی دباؤ کا شکار ہے۔
11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات جو کئی برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے براہ راست رابطے تھے، کا مقصد جنگ بندی کو مستحکم بنانا اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت اہم معاملات کو حل کرنا تھا۔ تاہم یورینیئم افزودگی کے معاملے پر دونوں فریقین کے درمیان شدید اختلافات برقرار ہیں۔ امریکا طویل المدتی پابندیوں کا خواہاں ہے جبکہ ایران جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کے تحت اپنے حق پر قائم ہے۔
رافیل گروسی نے زور دیا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی کامیابی کے لیے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی رسائی اور نگرانی لازمی ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ بغیر تصدیق کے کوئی بھی معاہدہ محض ایک کاغذ یا وعدہ ہوگا، بصورت دیگر یہ حقیقی معاہدہ نہیں بلکہ اس کا محض تاثر ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے وسیع جوہری پروگرام کے باعث اس کی تنصیبات اور جوہری مواد کی مکمل نگرانی ضروری ہوگی، اور ادارہ اس ضمن میں اپنی خدمات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
ایران کے موجودہ ذخیرے کے حوالے سے گروسی نے کہا کہ ادارے کے اندازے کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیئم کا بڑا حصہ اب بھی انہی تنصیبات میں موجود ہے، خاص طور پر اصفہان میں، جہاں یہ پہلے محفوظ تھا۔
انہوں نے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2009 میں معائنہ کاروں کے اخراج کے باوجود وہاں سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
گروسی کے مطابق یونگ بیون کے 5 میگاواٹ ری ایکٹر، ری پروسیسنگ یونٹ اور لائٹ واٹر ری ایکٹر سمیت دیگر تنصیبات میں سرگرمیوں میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شمالی کوریا کی جوہری صلاحیت تیزی سے بڑھ رہی ہے، جو درجنوں وارہیڈز تک پہنچ سکتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ یونگ بیون میں یورینیئم افزودگی کے ایک نئے پلانٹ جیسی تنصیب کی تعمیر دیکھی گئی ہے، جس سے اس کی پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم زمینی رسائی نہ ہونے کے باعث درست اندازہ لگانا مشکل ہے۔
روس اور شمالی کوریا کے درمیان ممکنہ جوہری تعاون کے حوالے سے گروسی نے کہا کہ ادارے کو فوجی نوعیت کے کسی تعاون کے شواہد نہیں ملے، تاہم سویلین منصوبوں سے متعلق حوالہ جات ضرور موجود ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان کوئی تعاون موجود ہے تو وہ صرف پرامن مقاصد تک محدود رہنا چاہیے۔
گروسی نے جنوبی اور شمالی کوریا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی بحالی کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سفارت کاری کا دوبارہ آغاز ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیے ’کوئی ثبوت نہیں کہ ایران جوہری ہتھیار بنا رہا ہے‘، بین الاقوامی ایٹمی توانائی کی ایجنسی
جنوبی کوریا کے جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزوں کے منصوبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے لیے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ساتھ خصوصی انتظامات ضروری ہوں گے تاکہ جوہری مواد کا غلط استعمال نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ ایسے منصوبے طویل المدتی ہوتے ہیں اور ان میں تحقیق، تجربات اور ریگولیٹری ہم آہنگی کے کئی مراحل شامل ہوتے ہیں، جو کئی برسوں پر محیط ہو سکتے ہیں۔
گروسی نے آسٹریلیا کے آکس معاہدے اور برازیل کے مقامی منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر ملک کا جوہری آبدوز پروگرام تکنیکی اور سیاسی اعتبار سے مختلف ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ رافیل گروسی دسمبر 2019 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد تیسری بار جنوبی کوریا کے دورے پر ہیں، جہاں وہ وزیر خارجہ کے ساتھ عالمی جوہری امور اور باہمی تعاون پر بات چیت کریں گے۔













