اکتوبر 1999 میں جنرل مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا تو امریکا کے مشہور زمانہ ٹائم میگزین نے اپنے 25 اکتوبر 1999 کے شمارے کا ٹائٹل پاکستان کے نام کیا۔ جانتے ہیں اس ٹائٹل میں کیا تھا؟ ایک بڑی سی پاکستانی جرنیلی کیپ اور اس کے نیچے جلی حروف میں یہ سوال
’کیا پاکستان کو بچایا جاسکتا ہے ؟‘
اس سوال کا پس منظر یہ تھا کہ پاکستان پر ایٹمی دھماکوں کے نتیجے میں سخت قسم کی امریکی پابندیاں عائد تھیں۔ وہ پابندیاں جو معاشی بھی تھیں، مالیاتی بھی اور عسکری بھی۔ آج 27 سال بعد پوری دنیا اسی پاکستان سے متعلق ایک نیا سوال پوچھ رہی ہے
’کیا پاکستان دنیا کو بچا سکتا ہے ؟‘
اس سوال کا جواب ایک اور سوال کے جواب میں چھپا ہے۔ وہ سوال جو ابھی 2،4 روز قبل ہی انڈین صحافی عارفہ خانم شیروانی نے اپنے پوڈکاسٹ میں حامد میر سے پوچھا
’ایک ہی وقت میں امریکا اور چین کو ہی نہیں، سعودی عرب اور ایران کو بھی خوش رکھ لینا، کیسے کر لیتا ہے پاکستان یہ سب؟‘
یہ سب کرلینا کتنا مشکل ہے، اس کا اندازہ کسی انڈین سے بہتر کسے ہوسکتا ہے؟ کیونکہ یہ انڈیا ہی تو ہے جس کے لیے ایک ہی وقت میں امریکا اور روس کو خوش رکھنا ہمیشہ کار محال ثابت ہوا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ طیاروں کی گنتیاں اور اس گنتی میں اضافہ اسی لیے تو کرتا جاتا ہے کہ انڈیا ڈونلڈ ٹرمپ اور ویلادیمیر پیوٹن دونوں کو بیک وقت خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور اس ناکام کوشش کے دوران مودی کو عالمی سٹیج پر مسلسل ذلت کا سامنا ہے۔
انڈینز کے برخلاف ہمارے متعلق ایرانی انقلابیوں کو ایک اور ہی طرح کی غلط فہمی طویل عرصہ لاحق رہی۔ ان کے میڈیا پر پاکستان سے متعلق یہ بات عام کہی جاتی تھی کہ یہ امریکا کا پٹھو ہے۔ جبکہ انڈیا انہیں ایک آزاد اور خود مختار ملک نظر آتا تھا۔ چنانچہ پاکستان اور انڈیا کے تنازعات میں انقلابی ایران انڈیا کا ہی ساتھ دیتا آرہا تھا۔ پاکستان کو ٹھیک سے سمجھنے میں ایران کو پورے 47 سال لگے۔ اس سمجھ میں کلیدی کردار افغانستان میں امریکا کے عبرتناک انجام نے ادا کیا۔ ایرانی شاید یہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ ایک ہی وقت میں امریکا اور طالبان دونوں پاکستان سے خوش اور دوحہ مذاکرات پر آمادہ ؟ سو انڈینز کی طرح ایرانیوں کے ذہن میں بھی ضرور یہی سوال پیدا ہوا
’کیسے کر لیتا ہے پاکستان یہ سب ؟‘
مگر انڈینز کے برخلاف ایرانی اچھی طرح سمجھ گئے کہ پاکستان امریکا کا پٹھو نہیں بلکہ ایک بہت گہری گیم رکھنے والا ایسا ملک ہے جو اپنے بہت ہی سادہ مگر پیچیدہ نظر آنے والے گیم پلان کی وجہ سے سب کے لیے ہی ایک معمہ بنا رہتا ہے۔ اور ایرانیوں کے لیے یہ معمہ سمجھنا زیادہ مشکل ثابت نہ ہوا۔ کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ جس پاکستان کو وہ امریکا کا پٹھو سمجھتے رہے، اس نے اسی امریکا کو اپنے پڑوس میں ایک بھی مستقل اڈہ حاصل نہ کرنے دیا۔ وہ اڈہ جو آگے چل کر پاکستان، ایران اور چین سب کے لیے درد سر بنتا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ خان کا قالین
اس سمجھ کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ ایرانیوں نے انڈیا کا بھی از سرنو جائزہ لینا شروع کردیا کہ کہیں وہ اسے سمجھنے میں بھی غلطی تو نہیں کر رہے؟ اس سوال کا کچھ جواب تو ایران کو پچھلے سال جون والے اسرائیلی حملے میں تب ملا جب ایران نے اپنے ملک میں سرگرم را کے ایجنٹوں کو اسرائیل کے لیے کام کرتے رنگے ہاتھوں پکڑا۔ جو کسر بچی تھی وہ حالیہ جنگ کے بالکل شروع میں اس ایرانی نیول شپ کی تباہی نے پوری کردی جس پر انڈیا سے روانہ ہوتے ہی امریکا نے حملہ کیا اور انڈیا نے اس پر چوں تک نہ کی۔ صرف چوں نہ کرنا کیا بلکہ انڈیا نے تو اس پر کسی شریک جرم جیسی خاموشی کو ترجیح دی۔ ایرانیوں نے یہ بھی دیکھ لیا کہ ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حالیہ حملے سے عین قبل کون تھا جو تل ابیب میں نیتن یاہو کو جپھیاں ڈال کر وفاؤں کا یقین دلا رہا تھا؟۔
چنانچہ آج صورتحال یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کہہ رہے ہیں، ہم مذاکرات کے اگلے دور کے لیے بھی شاید اسلام آباد ہی جائیں کیونکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ اور اس بیان پر ایران کو ذرا بھی ٹینشن نہیں۔ کیوں ؟ کیونکہ آج کا ایران یہ کھلی آنکھوں سے دیکھ چکا کہ پاکستان دوستوں کو دھوکہ نہیں دیتا، چاہے وہ دوست امریکا ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن اگر کوئی اس کے مفادات کے لیے خطرہ بن جائے تو پاکستان پھر بخشتا بھی نہیں، چاہے ایسا کرنے والا بھی امریکا ہی کیوں نہ ہو۔ یوں آج کی تاریخ میں ایران کو نہ اس بات سے کوئی پریشانی ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر تو ٹرمپ کو بہت عزیز ہیں۔ اور نہ ہی اس بات سے کوئی الجھن کہ پاکستان کے تو 13000 فوجی اور 18 لڑاکا طیارے سعودی عرب میں مستقل بنیاد پر لینڈ ہوچکے۔ ایرانیوں کو ٹینشن کیوں نہیں ؟ کیونکہ وہ جان گئے ہیں پاکستان وہ جادوگر ہے جو ایک ہی وقت میں بیجنگ اور واشنگٹن کو ہی نہیں بلکہ ریاض اور تہران کو بھی خوش رکھنے والا منتر جانتا ہے۔
صرف ایران ہی کیا، آپ ایک نظر ہمارے جگری یار سعودی عرب پر بھی ڈال لیجئے۔ ہم نے حالیہ جنگ میں ایران کی سیاسی ہی نہیں بلکہ سفارتی و دیگر ذرائع سے بھی مکمل مدد کی۔ ہم نے ایران پر ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملے کی ہی نہیں بلکہ 175 معصوم بچیوں کے اجتماعی قتل کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ جس ایرانی رہبر علی خامنہ ای کا قتل امریکا خوشخبری بنا کر دنیا کو پیش کر رہا تھا، انہی خامنہ ای کی شہادت پر پاکستان کی پارلیمنٹ تعزیتی دعاء کا اہتمام کرتی نظر آئی۔
مزید پڑھیے: سفارتکاری اور شہنشاہ ڈونلڈ ٹرمپ
پاکستانی میڈیا اور قوم نے بھی خود کو ایران کی حمایت میں ایک وحدت میں ڈھال لیا۔ اور اس باب میں شیعہ سنی کی تفریق ہی جیسے مٹا کر رکھدی۔ کیا سعودی عرب اس پر مضطرب، پریشان یا ناراض ہوا ؟ سعودیوں نے ہماری سرگرمیوں کو کس نظر سے دیکھا ؟ اس کا اندازہ اسی سے لگا لیجئے کہ جب یو اے ای نے ان نازک لمحوں میں ہم سے کہا ’کڈو ساڈے پیسے کڈو !‘ تو اس پریشانی کا فوری خاتمہ سعودی عرب نے اپنے 3 ارب ڈالرز سے کردیا۔ یوں سوال اب بھی وہی ہے جو عارفہ خانم شیروانی نے حامد میر سے پوچھا تھا
’ایک ہی وقت میں امریکا اور چین کو ہی نہیں، سعودی عرب اور ایران کو بھی خوش رکھ لینا، کیسے کر لیتا ہے پاکستان یہ سب ؟‘
پاکستان کے لیے ایسا بہ آسانی کرپانا کئی وجوہات سے ممکن ہے۔ مگر کلیدی نکات 2 ہیں۔ پہلا یہ کہ ہم دور اندیش ہیں۔ جس کا پہلا ثبوت آزادی کے فورا بعد کے ہمارے 2 اقدامات ہیں۔ پہلا یہ کہ چین جوں ہی آزاد ہوا پاکستان پہلا ملک تھا جس نے اسے تسلیم کر لیا، ہم نے باقی دنیا کا انتظار نہ کیا۔ دوسرا یہ کہ پی آئی اے پہلی بین الاقوامی ایئرلائن تھی جس کی فلائٹ آزاد چین کے دارالحکومت بیجنگ میں لینڈ ہوئی۔ کیا بزعم خود ارسطو جیسی ذہانت رکھنے والے انڈین لیڈرز ایسا کرسکے تھے؟ یہ ہمارے ہی اس دور کے لیڈر تھے جنہوں نے
جام پی کر جو دور تک دیکھا
چشم حیراں نے طور دیکھا
وہ طور کیا تھا جو انہوں نے بہت دور بھانپ لیا تھا ؟ وہ یہ آج کا شی جن پنگ والا چین تھا جو انہوں نے دیکھ لیا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ چین محض ملک نہیں ہے، بلکہ یہ ہزاروں سال کی تاریخ رکھنے والی تہذیب ہے۔ اور تہذیب اگر فنا ہونے سے بچ جائے تو کم بیک ضرور کرتی ہے۔ عین ایرانی تہذب کی طرح، جو اپنی تاریخ میں دو بار کم بیک کرچکی ہے اور تیسری بار کرنے کو ہے۔
دو حریفوں کو بیک وقت خوش رکھنے میں ہماری مہارت کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم دوستوں کو دھوکہ نہیں دیتے۔ ان کے مفادات اگر ہمارے مفادات سے ٹکرا نہ رہے ہوں تو پھر ہم ان کی اپنے مفادات کی طرح حفاظت کرتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کہ ماؤ زے تنگ کو یہ پریشانی لاحق نہیں ہوتی کہ ہم تو رچرڈ نکس کے بھی دوست ہیں۔کیونکہ ماؤ جانتا تھا کہ نکسن سے پاکستان کی دوستی کا چین کو فائدہ تو ہوسکتا ہے، نقصان کسی صورت نہیں ہوگا۔ یہی تسلی نکسن کو بھی تھی۔ اور یہی اطمینان آج کی تاریخ میں محمد بن سلمان اور مجتبی خامنہ ای کو بھی ہے۔ یہ ہم محض کہہ نہیں رہے ذرا اس کے ثبوت دیکھئے۔
ماؤ اور نکسن دونوں سے ہماری دوستی کا نتیجہ امریکا اور چین کے مابین ان تعلقات کے قیام کی صورت نکلا جس کے نتیجے میں چائنیز سٹوڈنٹس امریکا کی اعلی یونیورسٹیز سے تعلیم حاصل کرکے لوٹے اور آج کے سپر پاور چین کے معمار بنے۔چائنیز سٹوڈنٹس نے ہمارے سٹوڈنٹس کی طرح ذاتی کیریئر کو ترجیح دے کر امریکا میں ہی قیام اختیار نہیں کیا۔ بلکہ قومی کیریئر ان کی ترجیح بنا، جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ اسی طرح حالیہ جنگ میں ایران نے یو اے ای، بحرین اور کویت کا تو جیسے بھرکس نکال لیا۔ سینکڑوں میزائل اور ڈرونز ان ممالک میں اہداف تک گئے۔ مگر سعودی عرب کی حدود میں نسبتا بہت ہی کم حملے ہوئے۔ اور ایرانی بار بار سعودیوں کو یہ اطمینان دلاتے رہے کہ ہماری آپ سے کوئی جنگ نہیں، آپ ہمارے بھائی ہیں۔ ہمارا ہدف صرف امریکی تنصیبات و مفادات ہیں۔
جب سیز فائر ہوا تو اگلے ہی روز عباس عراقچی نے سعودی وزیر خارجہ کو فون کیا۔ اسلام آباد مذاکرات سے لوٹنے کے بعد 12 اور 14 اپریل کو بھی دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے مابین کئی بار رابطے ہوئے۔ اس کیس میں تو ملحد بھی نہیں مان سکتا کہ یہ رابطے بس خود بخود ہی ہوگئے، ان کے پیچھے کسی کا ہاتھ نہ تھا۔ جانتے ہیں ہمارے اس رول کا سب سے بڑا نتیجہ کیا ہے ؟ یہ کہ سعودی عرب اور ایران کے مابین 2023 میں ہونے والا بیجنگ معاہدہ مکمل محفوظ ہے۔
مزید پڑھیں: ’میں نے کہا تھا ناں کہ پھنس جائیں گے؟‘
یہ سوال سیز فائر کے فورا بعد عالمی تجزیہ کاروں کے مابین بھی زیر بحث آیا تھا کہ سعودی عرب اور ایران کے بیچ اس جنگ سے جو دراڑیں پیدا ہوئی ہوں گی، ان کا اب کیا بنے گا ؟ بیشتر تجزیہ کاروں نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب اور ایران کو چین سے ہی رجوع کرنا پڑے گا کہ ہمارے معاملات پھر سے ٹھیک کروایئے۔ مگر ملین یوآن کا سوال یہ ہے کہ ان دونوں ممالک کو چین سے کسی رابطے کی ضرورت تک پیش آئی ؟ جب پاکستان ہے تو کیا غم ہے ؟
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












