امریکی اداروں کو جدید اے آئی ماڈل تک رسائی دینے پر غور، سائبر سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے

جمعہ 17 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی حکومت ایک اہم فیصلے پر غور کر رہی ہے جس کے تحت وفاقی اداروں کو انتھروپک (Anthropic) کے جدید ترین مصنوعی ذہانت (AI) ماڈل ’مائتھوس‘ تک محدود رسائی دی جا سکتی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلوم برگ کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں زیر غور ہے جب حکومت جدید اے آئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے پیدا ہونے والے سائبر سیکیورٹی خطرات کا جائزہ لے رہی ہے۔

مزید پڑھیں:امریکا ایران مذاکرات: بات چیت کا دوسرا دور بٹ کوائن کے لیے کتنا اہم ہوگا؟

رپورٹ کے مطابق ’مائتھوس‘ کو پروجیکٹ گلاس ونگ کے تحت متعارف کرایا جا رہا ہے، جس میں منتخب اداروں کو اس ماڈل کے ابتدائی ورژن ’کلاؤڈ مائتھوس پریو‘ تک رسائی دی جائے گی تاکہ دفاعی سائبر سیکیورٹی کے مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل سافٹ ویئر، ویب براؤزرز اور آپریٹنگ سسٹمز میں ہزاروں بڑی کمزوریاں تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ پیچیدہ کوڈ لکھنے اور ممکنہ سیکیورٹی خامیوں کا فائدہ اٹھانے کے طریقے بھی تیار کر سکتا ہے، جس سے اس کی طاقت اور خطرات دونوں میں اضافہ ہوتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے فیڈرل چیف انفارمیشن آفیسر نے کابینہ کے اداروں کو ایک ای میل میں بتایا کہ حکومت اس ماڈل کے استعمال کے لیے حفاظتی اقدامات تیار کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ماڈل فراہم کرنے والی کمپنیوں، انڈسٹری پارٹنرز اور انٹیلی جنس کمیونٹی کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ مناسب حفاظتی حدود مقرر کی جا سکیں، اس سے پہلے کہ اس ماڈل کا کوئی ترمیم شدہ ورژن سرکاری اداروں کو دیا جائے۔

مزید پڑھیں: ایران کے ساتھ ڈیل ہو گئی تو ہو سکتا ہے میں اسلام آباد جاؤں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

تاہم، اس ای میل میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کن اداروں کو کب تک اس ماڈل تک رسائی دی جائے گی یا وہ اسے کس طرح استعمال کریں گے۔

ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت مستقبل میں حکومتی سطح پر اے آئی کے استعمال اور اس کے خطرات کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp