پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں واپسی کی تیاری، آئی ایم ایف اجلاس میں حکمت عملی پیش کردی گئی

جمعہ 17 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت عالمی مالیاتی منڈیوں میں دوبارہ واپسی کے لیے ایک جامع اور مستقبل پر مبنی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جس کا مقصد بیرونی سرمایہ کاری کے ذرائع کو متنوع بنانا اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مستحکم کرنا ہے۔

آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اسپرنگ اجلاس 2026 کے موقع پر اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے دوران انہوں نے پاکستان کی بہتر ہوتی میکرو اکنامک صورتحال اور جاری اصلاحات پر روشنی ڈالی۔

فاکس بزنس نیٹ ورک کے پروگرام ’مارننگز ود ماریہ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان عالمی سرمایہ مارکیٹس میں واپسی کی تیاری کر رہا ہے، جس کے لیے مختلف مالیاتی ذرائع استعمال کیے جائیں گے، جن میں ملک کا پہلا پانڈا بانڈ اور ممکنہ یورو بانڈز شامل ہیں۔

وزارت خزانہ کے مطابق وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت پانڈا بانڈ کے اجرا کی تیاری کر رہی ہے، جبکہ یورو بانڈز اور دیگر کمرشل فنانسنگ کے آپشنز پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ مالیاتی ذرائع کو متنوع بنایا جا سکے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھا جائے۔

یہ بھی پڑھیے وزیراعظم شہباز شریف کی حکمت عملی پر آئی ایم ایف کا خراج تحسین، پاکستان معاشی استحکام کے کتنا قریب؟

انہوں نے کہا کہ 4  سال کے وقفے کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں واپسی پاکستان کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد بیرونی فنانسنگ کے ذرائع کو مضبوط بنانا اور سرمایہ کاروں کے ساتھ روابط کو فروغ دینا ہے۔

روتھ شیلڈ اینڈ کمپنی کے ساتھ ایک علیحدہ ملاقات میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان یورو بانڈز، پانڈا بانڈ اور ڈالر میں طے شدہ روپے سے منسلک مالیاتی لین دین کے ذریعے کیپٹل مارکیٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانڈا بانڈ کے اجرا کا عمل آخری مراحل میں ہے اور جلد ریگولیٹری منظوری متوقع ہے۔ وزیر خزانہ نے قرضوں کے بہتر انتظام سے متعلق مشاورتی آراء کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات پاکستان کی ییلڈ کَرو کو کم کرنے اور مارکیٹ کے اعتماد کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

آئی ایم ایف سے روابط اور بیرونی مالیاتی منظرنامہ

آئی ایم ایف کے نمائندے نائجل کلارک کے ساتھ ملاقات میں وزیر خزانہ نے پروگرام پر عملدرآمد اور بیرونی مالیاتی صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ اہم معاشی اشاریے مجموعی طور پر درست سمت میں گامزن ہیں۔

ان کے مطابق پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ توقعات سے بہتر رہا ہے، جس میں خصوصاً رمضان کے دوران ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر کو سعودی عرب کی مالی معاونت، بشمول ڈپازٹس کے رول اوور، کے ذریعے مضبوط بنایا جا رہا ہے۔

وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اپنی فنانسنگ کی حکمت عملی کو متنوع بنا رہا ہے، جس میں پانڈا بانڈ، یورو بانڈز اور مقامی کرنسی میں فنانسنگ شامل ہے تاکہ زرمبادلہ کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی مؤثر سفارتکاری کے ثمرات، عالمی سطح پر بھی پذیرائی

دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جغرافیائی سیاسی اور علاقائی جھٹکے توقع سے زیادہ دیر تک برقرار رہ سکتے ہیں، اس لیے شرح مبادلہ میں لچک برقرار رکھنے اور مالیاتی گنجائش کو محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے، بجائے اس کے کہ غیر پائیدار قرضوں کے ذریعے ترقی حاصل کی جائے۔

وزیر خزانہ نے آئندہ ماہ آئی ایم ایف مشن کے دورہ پاکستان کا خیرمقدم بھی کیا، جہاں وفاقی بجٹ اور پروگرام جائزے پر بات چیت کی جائے گی۔

معاشی استحکام اور اصلاحاتی اقدامات

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادیں عالمی مارکیٹس میں واپسی کی راہ ہموار کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کے میکرو اکنامک اشاریے مستحکم ہیں اور مالیاتی و بیرونی شعبوں میں مضبوطی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مارچ میں ترسیلات زر تقریباً 3.8 ارب ڈالر رہیں، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ میں سرپلس بھی ریکارڈ کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے امید ظاہر کی کہ رواں مالی سال میں معیشت تقریباً 4 فیصد ترقی کرے گی اور زرمبادلہ کے ذخائر 3 ماہ کی درآمدات کے لیے کافی رہیں گے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان نے بروقت 1.4 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کی ادائیگی کر کے اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کا ثبوت دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری اصلاحاتی پروگرام میں مالیاتی نظم و ضبط، ساختی اصلاحات اور پبلک فنانشل مینجمنٹ میں بہتری شامل ہے، جبکہ مالی سال 2026 کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خاطر خواہ بیرونی فنانسنگ کا بندوبست کیا جا چکا ہے۔

عالمی روابط اور موسمیاتی فنانسنگ

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سمیت عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں میں وزیر خزانہ نے خطے میں استحکام کے فروغ اور عالمی معاشی چیلنجز، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے توانائی اور غذائی تحفظ پر اثرات، پر بات چیت کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سفارتی سطح پر جنگ بندی برقرار رکھنے اور مذاکرات کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔

وزیر خزانہ نے موسمیاتی فنانسنگ اور پائیدار ترقی پر پاکستان کی توجہ کا بھی ذکر کیا، جس میں ورلڈ بینک گروپ کی معاونت اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مشترکہ مالیاتی حل شامل ہیں تاکہ قرضوں کی لاگت کم کی جا سکے۔

عالمی چیلنجز سے نمٹنے کی حکمت عملی

بیرونی خطرات کے حوالے سے وزیر خزانہ نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو ایک بڑا عالمی سپلائی شاک قرار دیا، جس کے توانائی کی فراہمی، قیمتوں اور لاجسٹکس پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے حکومت پاکستان کی اصلاحات کے مثبت نتائج ظاہرہونا شروع ہوگئے، منیجنگ ڈائریکٹر آئی ایم ایف کا اعتراف

انہوں نے کہا کہ حکومت فوری طور پر سپلائی چین کو برقرار رکھنے پر توجہ دے رہی ہے، جبکہ مہنگائی، معاشی ترقی اور بیرونی شعبے پر ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

چین کے ساتھ تعلقات

ورلڈ بینک آئی ایم ایف اجلاس کے موقع پر وزیر خزانہ نے اپنے چینی ہم منصب لان فوآن سے ملاقات میں پاکستان کے لیے چین کی مسلسل اور غیر متزلزل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے پاکستان کی آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کارکردگی سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی کے تحت تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی کے دوسرے جائزے کے لیے اسٹاف لیول معاہدہ طے پا چکا ہے، جبکہ آئی ایم ایف بورڈ سے منظوری مئی کے اوائل میں متوقع ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان نے 1.4 ارب ڈالر کا یورو بانڈ کامیابی سے ادا کیا ہے اور سعودی عرب سے اضافی مالی معاونت بھی حاصل کی ہے۔

انہوں نے پانڈا بانڈ کے اجرا کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات کے پیش نظر رینمنبی میں لین دین کے فروغ اور کرنسی سواپ معاہدے کے دائرہ کار میں توسیع کا خواہاں ہے۔

وزیر خزانہ نے اس بات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ چین نے خطے میں استحکام اور مذاکرات کے فروغ میں پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹرمپ کے ڈیپ فیک میمز کا بڑھتا رجحان: سوشل میڈیا پر سیاست کا نیا ہتھیار

اسحاق ڈار کی جنوبی کوریا کے نائب وزیر خارجہ سے ملاقات، باہمی تعاون اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

عالمی تجارت متاثر: پاکستان نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر فوری اقدامات کا مطالبہ کر دیا

’جیسا استقبال مجھے پاکستان میں ملا اگر اس کا آدھا بھی امریکی وفد کو مل جائے تو وہ کبھی واپس نہ جائیں‘، امریکی صحافی

’اب امن ہونا چاہیے‘ صدر ٹرمپ کا حزب اللہ کو پیغام

ویڈیو

ترکیہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں: وزیراعظم شہباز شریف اور حاقان فیدان کی ملاقات، امریکا ایران امن معاہدے کی کوششیں تیز

افغانستان میں کامیاب کارروائی کے بعد پاکستان میں 70 فیصد دہشتگرد کارروائیوں میں کمی ہوئی، صحافیوں کی رائے

واسا لاہور عالمی سطح پر نمایاں، ٹاپ 5 واٹر یوٹیلیٹیز میں شارٹ لسٹ

کالم / تجزیہ

ہنساتے ببو برال کی اداس کہانی

جب پاکستان ہے تو کیا غم ہے؟

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘