ناسا کے کمرشل ری سپلائی سروسز پروگرام کے تحت ‘سی آر ایس-24’ مشن کے ذریعے سائگنس ایکس ایل خلائی جہاز کامیابی سے روانہ کردیا گیا ہے، جو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر موجود خلابازوں کے لیے 11 ہزار پاؤنڈ سے زائد وزنی سامان اور سائنسی آلات لے کر جارہا ہے۔
یہ مشن اپ گریڈ شدہ سائگنس ایکس ایل گاڑی کی دوسری پرواز ہے، جسے خاص طور پر سابقہ ماڈلز کے مقابلے میں زیادہ سامان لے جانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس خلائی جہاز کو سابق ناسا خلاباز اسٹیون آر ناگیل کے نام سے منسوب کیا گیا ہے جنہوں نے اپنے کیریئر میں چار خلائی مشن مکمل کیے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا کا آرٹیمس II مشن یکم اپریل کو روانہ ہوگا، چاند کے گرد انسانی پرواز کی تاریخی واپسی
اسپیس ایکس کے فالکن نائن راکٹ کے ذریعے روانہ ہونے والا یہ جہاز ایکسپڈیشن 74 اور 75 کے عملے کے لیے تحقیقی مواد فراہم کرے گا، جبکہ اس کی گنجائش میں 33 فیصد اضافے سے اب مائیکرو گریوٹی میں طویل مدتی تجربات کرنا ممکن ہوسکے گا۔
اس مشن میں شامل سائنسی آلات میں ‘کولڈ ایٹم لیب’ کا جدید نظام انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جس کی مدد سے سائنسدان انتہائی سرد درجہ حرارت میں جنرل ریلیٹیوٹی اور ڈارک میٹر جیسے طبیعات کے پیچیدہ موضوعات پر تحقیق کر سکیں گے، اس کے علاوہ محققین مائیکرو گریوٹی کے ماحول میں ایسے اسٹیم سیلز تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں جن سے خون کی بیماریوں اور کینسر کی مخصوص اقسام کے علاج میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا اور جنوبی کوریا کا مشترکہ ڈیپ اسپیس مشن کیا ہے؟
یہ مشن نہ صرف سائنسی تحقیق بلکہ زمینی نظاموں کے تحفظ کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس میں موجود آلات خلائی موسم کی پیش گوئی کے ماڈلز کو بہتر بنائیں گے، جس سے جی پی ایس نیٹ ورکس اور ریڈار انفراسٹرکچر کو محفوظ رکھنے میں مدد ملے گی۔
سائگنس ایکس ایل کی واپسی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ خلائی جہاز زمین پر واپس نہیں آئے گا بلکہ اسے ایک ہی بار استعمال کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ خلائی اسٹیشن پر پہنچنے کے بعد ناسا کے خلاباز جیک ہتھاوے اور کرس ولیمز اس کی آمد کے معاملات سنبھالیں گے اور یہ جہاز تقریباً دو سال تک اسٹیشن کے ساتھ منسلک رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا کے خلا باز اب خلا میں اسمارٹ فون استعمال کریں گے
اس دوران یہ کارگو ٹرانسپورٹر کے علاوہ مدار کی تبدیلیوں میں بھی مدد فراہم کرے گا، تاہم مشن کی تکمیل پر اسے خلائی اسٹیشن کے کچرے سے بھر دیا جائے گا۔ آخر میں اسے کنٹرولڈ طریقے سے زمین کے ماحول میں دوبارہ داخل کیا جائے گا جہاں رگڑ اور حرارت کی وجہ سے یہ مکمل طور پر تباہ ہو جائے گا، جس کا مقصد خلائی فضلے کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانا ہے۔













