پاکستان کے معروف کرکٹر شاہد آفریدی کی ممکنہ سیاسی سرگرمیوں سے متعلق حالیہ دنوں میں افواہیں گردش کر رہی ہیں، خصوصاً جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ان کے گھر آمد کے بعد یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا وہ جے یو آئی میں شمولیت اختیار کرنے جا رہے ہیں یا نہیں۔
جے یو آئی کے ترجمان سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اس حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان مختلف شخصیات سے ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں، اور شاہد آفریدی سے ملاقات بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔
’اس ملاقات کا بنیادی مقصد نہ تو سیاسی شمولیت تھا اور نہ ہی جے یو آئی میں شمولیت کی باضابطہ دعوت دینا۔‘
یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمان کی شاہد آفریدی کی رہائشگاہ آمد، فلاحی کاموں پر سابق کپتان کی تعریف
انہوں نے کہا کہ جے یو آئی ایک دعوتی جماعت ہے، اس لیے ملاقات کے دوران عمومی طور پر دعوت کا پہلو ضرور موجود ہوتا ہے، تاہم شاہد آفریدی کو پارٹی میں شامل ہونے کی کوئی باضابطہ پیشکش نہیں کی گئی۔
البتہ انہوں نے یہ خواہش ضرور ظاہر کی کہ شاہد آفریدی جیسی شخصیت اگر جماعت کا حصہ بنے تو یہ خوش آئند ہوگا۔
کامران مرتضیٰ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان تعلقات قائم رکھنے کے قائل ہیں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے رابطے میں رہتے ہیں۔
مزید پڑھیں: امن چاہتے ہیں مگر خودمختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں، شاہد آفریدی
دوسری جانب شاہد آفریدی پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ ان کا فی الحال سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں۔
شاہد آفریدی نے انکشاف کیا کہ ماضی میں انہیں اہم سرکاری عہدوں کی پیشکش بھی کی گئی، تاہم انہوں نے ہمیشہ ایسی ذمہ داریوں سے گریز کیا کیونکہ وہ نمائشی یا علامتی کردار ادا کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
شاہد آفریدی نے کہا تھا کہ ماضی میں ان کے ذہن میں سیاست میں آنے اور حتیٰ کہ ایک سیاسی جماعت بنانے کا خیال بھی تھا، تاہم 2021 کے بعد انہوں نے اس خیال کو پس پشت ڈال دیا۔
مزید پڑھیں: پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا دفاع نہیں کیا، ویڈیو پرانی ہے، شاہد آفریدی کی وضاحت
شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ وہ اب اپنی توجہ سیاست کے بجائے فلاحی کاموں پر مرکوز رکھنا چاہتے ہیں۔
ان کے مطابق ملک کی سیاست میں اکثر کام کے بجائے تنازعات اور لڑائی جھگڑے دیکھنے کو ملتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اس میدان سے دور رہنا ہی بہتر سمجھتے ہیں۔













