وفاقی آئینی عدالت نے بھارت اور اسرائیل سے کتب و دیگر اشیا کی درآمد پر عائد پابندی کو قانونی اور آئینی طور پر درست قرار دیتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کے تمام احکامات کالعدم قرار دے دیے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات مکمل طور پر حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور عدلیہ ان میں مداخلت نہیں کر سکتی۔
یہ بھی پڑھیں:انصاف پر ٹیکس؟ بائیو میٹرک فیس کے خلاف آئینی عدالت میں درخواست دائر
وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس عامر فاروق نے اکثریتی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو یہ مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ کن ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھنا چاہتی ہے اور کن پر پابندیاں عائد کرتی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر عدلیہ تجارتی پالیسیوں میں مداخلت کرے گی تو یہ آئینی حدود سے تجاوز کے مترادف ہوگا۔
عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے وفاقی حکومت کو نظرثانی کے لیے افسر مقرر کرنے کے حکم کو بھی کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے ازخود نوٹس کے دائرہ اختیار سے باہر قرار دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار اپنے مسائل کے حل کے لیے براہ راست وفاقی حکومت سے رجوع کرنے کے مجاز ہیں۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پڑھنے کا حق بنیادی حق ضرور ہے تاہم یہ ملکی قوانین اور خارجہ پالیسی کے تحت عائد پابندیوں سے مشروط ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ آئین پاکستان ایک ارتقائی دستاویز ہے جو وقت کے ساتھ نئے حقوق کی تشریح کی اجازت دیتا ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 25-اے کے تحت مفت تعلیم کا حق صرف اسکول اور کالج کی سطح تک محدود ہے۔
دوسری جانب جسٹس علی باقر نجفی نے اضافی نوٹ میں پڑھنے کے ساتھ لکھنے کے حق کو بھی بنیادی حق قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پڑھنا اور لکھنا ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ایک کے بغیر دوسرا مکمل نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں:وفاقی آئینی عدالت: ججز ٹرانسفر کیس سے متعلق 5 انٹرا کورٹ اپیلیں عدم پیروی کی بنیاد پر خارج
اپنے اضافی نوٹ میں انہوں نے قرآن پاک کی پہلی وحی ’اقراء‘ کا حوالہ دیتے ہوئے علم کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ علم انسان کو ذہنی غلامی سے نجات دیتا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر علامہ اقبال کے افکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فکری آزادی اور شعور کی بیداری قوموں کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ انٹرنیٹ کے دور میں معلومات پر مکمل پابندی عملی طور پر مشکل ہے تاہم قومی سلامتی اور حب الوطنی کے تقاضے اپنی جگہ اہم ہیں۔
یہ فیصلہ وزارتِ تجارت کی اپیل پر سنایا گیا تھا، جس میں لاہور ہائیکورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا تھا جس میں حکومت کو بھارت سے کتابوں کی درآمد پر نظرثانی کی ہدایت دی گئی تھی۔














