‘پاکستان مصروف ہے’، جنگ عظیم دوم کے بعد دنیا کو پیش آنے والے بڑے حادثات میں شامل ایران بمقابلہ اسرائیل و امریکا جنگ کو رکوانے میں اور بے قابو ٹرمپ کے آگے بندھ باندھنے میں۔
پاکستان کی شٹل ڈپلومیسی، پس پردہ سفارتکاری اور بھاگ دوڑ اور اسلام آباد سے واشنگٹن، تہران، ریاض، انقرہ اور یورپی سینٹرز تک کالز کا تاندا بندھا ہوا ہے۔ وزیر اعظم سے لیکر فیلڈ مارشل تک اور اسحاق ڈار سمیت پوری سفارتی برگیڈ متحرک ہے۔
پاکستان 5 دہائیوں سے ناراض ایک دوسرے سے چڑے ہوئے بے قابو امریکہ اور ضدی ایران کو ایک ہی کمرے میں 24 سے زائد گھنٹوں تک کیلئے بیٹھا چکا ہے۔
آخر بحرانوں کا شکار اس ملک نے یہ چمتکار کیا کیسے یا ٹائمز آف انڈیا کے مطابق منیر اینڈ کمپنی نے ٹرمپ، چین اور ایران کو استعمال کر کے دنیا بھر میں پاکستان کی سفارتی واپسی کا چمتکار کیسے دکھایا؟
یقینا دنیا میں سیکیورٹی معاملات، دھماکوں، اسامہ بن لادن برانڈ سمیت زیادہ تر منفی باتوں کیلئے مشہور پاکستان سفارتکاری، جنگ روکنے جیسے اقدامات کی وجہ سے ہیڈلائنز میں ہے، تو پھر یہ چمتکار تو ہے۔
منیر اینڈ کمپنی نے ٹرمپ، چین اور ایران کو استعمال کر کے دنیا بھر میں پاکستان کی سفارتی واپسی کا چمتکار کیسے دکھایا؟ یہ سرخی کسی پاکستانی اخبار کی نہیں ہے، ٹائمز آف انڈیا کی ہے۔ بھارت کے سب سے بڑے انگریزی اخبار کی۔ اور جب حریف خود تسلیم کرے تو سمجھ لیں کہ بات میں دم ہے۔
مگر یہ صرف ٹائمز آف انڈیا نہیں بول رہا، بزنس سٹینڈرڈ نے لکھا کہ وال سٹریٹ جرنل کے مطابق پاکستان کی ثالثی کی اصل وجہ ٹرمپ کے اندرونی حلقے تک رسائی ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ٹرمپ سے قریبی لوگوں کے ساتھ ذاتی تعلقات بنائے۔ واشنگٹن ایگزامنر نے تفصیل سے بتایا کہ کشمیر حملے کے 2 دن بعد پاکستان نے جیولن ایڈوائزرز کی خدمات حاصل کیں، جو ٹرمپ کے سابق ذاتی باڈی گارڈ کیتھ شلر اور ٹرمپ آرگنائزیشن کے سابق ایگزیکٹو جارج سوریال کی فرم ہے۔ نوبل امن انعام کی نامزدگی کی۔ معدنی ذخائر کے معاہدے کیے۔ اور یہ سب ٹرمپ کی شخصیت کو سمجھ کر کیا۔
پاکستان جانتا ہے ٹرمپ کو کیسے کھیلنا ہے
واشنگٹن ایگزامنر امریکی قدامت پسند نیوز میگزین کا تبصرہ ‘پاکستان جانتا ہے ٹرمپ کو کیسے کھیلنا ہے’، میں ہی ساری کہانی چھپی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے اندرونی طور پر انتہائی خلشار کا شکار پاکستان اور اس کی قیادت آج سے ڈیڑھ سال قبل بزنس ڈیلوں کے ماہر اور انتہائی ناقابل اعتبار ٹرمپ کا درست نفسیاتی تجزیہ کرنے میں موثر طریقے سے کامیاب ہوئی ہے۔
اس کے بعد 35 سال کرٹپو گرو بلال بن ثاقب ہوں یا کیتھ شلر، جارج سوریال ہوں یا کوئی دوسرا ‘مہرہ’ فیلڈ مارشل اور پرائم منسٹر شہباز شریف نے ہر حربہ کامیابی آزامایا اور ہر چال درست چلی۔ ٹرمپ کے انتہائی اندرونی سرکل تک رسائی، فیلڈ مارشل نے کوئی تو منتر تو چلایا ہے۔
امریکی معتبر ترین روزنامے نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے جب ساری دنیا کی نظریں مشرق وسطی پر مرکوز تھیں اور امریکی صدر ہزاروں سال پرانی ایرانی تہذیب کو تباہ کرنے کی بھڑکیں لگا رہے تھے، اس وقت پس پردہ سفارتکاری کے نتیجے میں جنگ بندی ممکن ہوئی اور ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اس کا اعلان کیا اس میں دلچسپ کیا ہے؟
ٹرمپ کے اعلان سے قبل جن 2 لوگوں سے بات کی ان میں ایک فیلڈ مارشل بھی شامل ہیں۔ یعنی پاکستان نے لوہا گرم دیکھا اور فوری طو ر پر ضرب لگا دی۔
ایشیا ٹائمزکے مطابق پاکستان کو امریکی سیکیورٹی معاملات میں شاید افغان جنگ کے ابتدائی دنوں میں اتنی اہمیت ملی ہو اس کے بعد پاکستان کبھی واشنگٹن کے طاقت کے ایوانوں میں اتنا اہم نہیں بن سکا تھا۔
ایک طرف بھارت کی مسلسل جارحانہ مہم تھی جو پاکستان کو دہشت گرد ریاست ثابت کرنے پر مبنی تھی تو دوسری طرف پاکستان کا معاشی طور پر غیر اہم ہونا مگر کیا کم بیک کیا ہے پاکستان نے شاندار اور انتہائی بڑھیا، ٹرمپ نے جنگ بندی سے قبل فیلڈ مارشل کو کال کی۔
دوسرے جس شخص سے بات کی گئی وہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ہیں، یعنی امریکی صدر نے پاکستان کو ایران اور مغربی ایشیا کے بحران میں اسرائیل کے برابر اسٹریٹیجک مقام دے دیا۔
نام نہاد جب نمائش میں مصروف تھی پنڈی کے ماہر سفارت کار بیک چینلز چلا رہے تھے۔
گزشتہ ایک سے ڈیڑھ ماہ کی پاکستان کی ثالث کہانی کا نمایاں ترین رخ رازداری، انتہائی پردہ داری اور معاملات کو حقیقی معنوں میں پردے کے پیچھے رکھنا قرار پائی ہے، جو فیلڈ مارشل اور ان کی ٹیم کی حقیقی کامیابی ہے۔
اسی بات کی نشاندہی بھارتی فوج کے سابق افسر اور دفاعی تجزیہ کار منوج چنن نے کی، انڈین ایکسپریس میں انہوں نے لکھا ’پاکستان نے، تہران سے اپنے گہرے تعلقات اور شاندار توازن کے ذریعے سے، خود کو دیانت دار ثالث ثابت کیا۔ جب سپر پاورز نمائش کر رہی تھیں، راولپنڈی کے سفارت کار خاموشی سے بیک چینلز چلا رہے تھے جو افغان ثالثی کے دہائیوں کے تجربے سے تیار کیے گئے تھے۔ ریاستی حکمت عملی کا شاہکار۔ اسلام آباد نے امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر گھسیٹا اور دس نکاتی امن منصوبہ تیار کروایا جسے اب امریکی صدر نے منظور کر لیا ہے۔ یہ خیرات نہیں، ریئل پالیٹیک ہے۔’
امن کی کوشش ‘کسی بھی صورت ہم یہ کریں گے’، پاکستان کا سفارتی منشور
ساتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد ٹالک کے بینر تلے مذاکرات کے بے نتیجہ ختم ہونے کے بعد کے حالات پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے، رپورٹ کے الفاظ in any way we can کو پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں کو اجاگر کرنے کے طور پر لکھا ہے، جس کا مطلب ہے پاکستان کسی بھی صورت یہ کوہمالیہ سر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ کوہ ہمالیہ کیا ہے در اصل دو دہاری تلوار ہے جس پر پاکستان سفارتی کاوشوں کے ذریعے بغیر ڈگمگائے چل رہا ہے۔
ایک طرف ایران اور امریکہ کی ثالثی ہے اور دوسری طرف گلف ممالک بالخصوص سعودیہ عرب کو ایران کے ساتھ براہ راست جنگ سے دور رکھنا ہے۔ پاکستان دونوں محاذوں پر کامیاب ہے اور یہ کامیابی فیلڈ مارشل اور ان کی ٹیم کی مرہون منت ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














