سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے کراچی سمیت ملک بھر کے لیے بجلی کی قیمت میں اضافے کی درخواست جمع کرا دی ہے، جس میں مارچ کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں فی یونٹ بجلی مہنگی کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ درخواست پر سماعت رواں ماہ کے آخر میں متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پرانے سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کے معاہدوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہوگی، نیپرا کا ترمیمی نوٹیفکیشن جاری
اسلام آباد میں جمع کرائی گئی درخواست کے مطابق سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے بجلی کی قیمت میں 27 پیسے فی یونٹ اضافے کی استدعا کی ہے، جو مارچ کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت کی گئی ہے۔ اس درخواست پر 28 اپریل کو سماعت کی جائے گی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق مارچ کے دوران مجموعی طور پر 8 ارب 93 کروڑ 90 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی، جبکہ ڈسکوز کو 8 ارب 64 کروڑ 40 لاکھ یونٹس بجلی فراہم کی گئی۔ اس مدت کے لیے فی یونٹ فیول لاگت کا تخمینہ 7 روپے 99 پیسے مقرر کیا گیا تھا، تاہم اصل لاگت بڑھ کر 8 روپے 26 پیسے فی یونٹ تک پہنچ گئی۔

درخواست میں بجلی کی پیداوار کے ذرائع کی تفصیلات بھی دی گئی ہیں، جن کے مطابق پانی سے 23.55 فیصد اور مقامی کوئلے سے 16.76 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔ اسی طرح درآمدی کوئلے سے 13.80 فیصد اور درآمدی ایل این جی سے 5.64 فیصد بجلی حاصل کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ منظور کرلیا، فی یونٹ کتنے پیسے بڑھ گئے؟
مزید بتایا گیا ہے کہ مقامی گیس سے 11.34 فیصد، فرنس آئل سے 1.02 فیصد جبکہ جوہری ایندھن سے 21.95 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔ قابل تجدید توانائی کے ذرائع میں ہوا سے 3.46 فیصد اور سولر سے 1.18 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔
سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کا مؤقف ہے کہ فیول لاگت میں اضافے کے باعث قیمت میں ایڈجسٹمنٹ ناگزیر ہے، جس کی منظوری کے بعد صارفین پر اس کا اطلاق کیا جائے گا۔














