وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے 5ویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور ریاستِ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے ساتھ سہ فریقی ملاقات میں شرکت کی۔
ملاقات کے دوران تینوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورتحال اور جاری امن کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس میں غزہ اور فلسطین کی تشویشناک صورتحال بھی زیر غور آئی۔
رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے مکالمے اور سفارتکاری کو مزید فروغ دینے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھا جائے گا۔
قبل ازیں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہاکہ وزیراعظم شہباز شریف کی کوششوں سے خطے میں جنگ رک گئی۔
انطالیہ ڈپلومیسی فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس وقت دنیا بھر میں غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے اور مختلف خطوں میں تنازعات انسانیت کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اسرائیلی حملوں کے دوران روزانہ بڑی تعداد میں بچے، خواتین اور نوجوان متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ جنگ بندی کے باوجود غزہ میں حملے جاری ہیں اور اب تک 754 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
ترک صدر کے مطابق غزہ کی صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی نظام کس مقصد کے لیے کام کر رہا ہے، اور اس پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔
رجب طیب اردوان نے کہا کہ ہمیں موجودہ حالات میں مزید جرات اور بہادری دکھانے کی ضرورت ہے، ترکیہ خطے میں امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہاکہ جنگ بندی کو امن کے ایک موقع کے طور پر دیکھنا چاہیے، اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی کوششوں کے باعث خطے میں جنگ رکنے میں مدد ملی۔
ترک صدر نے کہاکہ انطالیہ ڈپلومیسی فورم ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں انسانیت کے مستقبل پر بات کی جاتی ہے، تاہم جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملے جاری ہیں۔












