برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 5 مستقل ارکان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے رویے میں تبدیلی لائیں، کیونکہ ان کی ناکامی کے باعث ایران میں جنگ کو روکنے میں کامیابی نہیں ہو سکی۔
بارسلونا میں منعقدہ ایک ترقی پسند رہنماؤں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے برازیلی صدر نے ٹرمپ کا نام لیے بغیر کہا کہ ہم ہر صبح یہ نہیں دیکھ سکتے اور نہ ہی ہر رات اس کے ساتھ سو سکتے ہیں کہ کسی صدر کا ایک ٹوئٹ دنیا کو دھمکا رہا ہو اور جنگوں کا اعلان کر رہا ہو۔’
یہ بھی پڑھیے: ڈیپ فیک فراڈ ، میٹا نے برازیل اور چین میں متعدد افراد کے خلاف مقدمات دائر کردیے
انہوں نے ٹرمپ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی رہنما دنیا کو جنگ کی دھمکی دینے کا حق نہیں رکھتا۔
اس سے قبل ایک ہسپانوی اخبار ‘ایل پائس’ کو دیے گئے انٹرویو میں بھی لولا دا سلوا نے ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ عالمی رہنماؤں کو خوف کے ذریعے حکمرانی کے بجائے باہمی احترام کو فروغ دینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: ایران سے بہت اچھے مذاکرات چل رہے ہیں، آج اہم معلومات کا اعلان کروں گا، ڈونلڈ ٹرمپ
لولا دا سلوا نے کہا کہ ٹرمپ کو کسی ملک کو صبح اٹھ کر دھمکیاں دینے کا حق حاصل نہیں۔ ان کے مطابق انہیں اس لیے منتخب نہیں کیا گیا اور نہ ہی امریکی آئین اس کی اجازت دیتا ہے۔
برازیلی صدر کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی سطح پر مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور ایران سے متعلق کشیدگی پر تشویش پائی جا رہی ہے۔














