پاکستان مسلم دنیا کا قائد اور اقوام عالم میں قابل اعتبار ثالث

اتوار 19 اپریل 2026
author image

شبیر سومرو

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سندھی زبان کی ایک کہاوت ہے کہ ’پاڑو ابو اماں آہے‘۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمسائے اماں ابا جیسے ہوتے ہیں۔ اور ہمارے مذہب اسلام میں والدین اور ہمسائے کے حقوق کتنے زیادہ ہیں؟ اس سے ہم سب اچھی طرح واقف ہیں۔ ایران ایک تو ہمارا ہمسایہ ملک ہے تو دوسرے پاکستان اور ایران  اسلام کے مضبوط دھاگے میں پروئے ہوئے 2 موتی ہیں۔اس لیے ہم پاکستانی ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی جنگ میں دلی طور پر ایران کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مگر ملکوں اور حکومتوں کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ ملک  یا حکومت جذباتیت سے نہ چل سکتے ہیں اور نہ ہی برقرار رہ سکتے ہیں۔ مگر اس حقیقت کے باوجود پاکستان کی موجودہ حکومت، عسکری قیادت اور دیگر حلقوں نے اس جنگ کے خاتمے، فریقین کے مابین صلح کروانے کے لیے انہیں مذاکرات کی میز پر لانے میں جو کامیاب کرادر ادا کیا ہے۔ اس وقت پوری دنیا پاکستان کے اس کردار کو نہ صرف تسلیم کرتی ہے بلکہ اسے ستائش کی نظر سے بھی دیکھ رہی ہے۔

اس وقت جب پوری دنیا خوف کے مارے ایران سے فاصلہ رکھے ہوئے ہے، عین اس وقت ہمارے آرمی چیف جنگ سے متاثرہ ہمارے پڑوسی  ملک میں  دورے پر پہنچے۔

اس کے ساتھ ہمارے وزیراعظم شہباز شریف پاکستان کے دوسرے برادر اسلامی ملک سعودی عرب گئے، جس کے ساتھ ہمارے ملک کا دفاعی معاہدہ ہے۔ یوں پاکستان کی موجودہ قیادت عالمی منظر نامے میں غیر معمولی طور پر متحرک دکھائی دیتی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اس تحرک اور مثبت سرگرمی کے ہمارے ملک اور عوام کو کثیر الجہتی فوائد حاصل ہو رہے ہیں اور مزید ہوں گے۔ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن کا بھی یہ تقاضا ہے کہ وہ مغرب اور مشرق وسطیٰ کے درمیان پل کا کردار ادا کرے، کیوں کہ اس سے اس کی اپنی پوزیشن اقوامِ عالم میں نمایاں ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان سفارتی، معاشی اور دیگر محاذوں پر مضبوط ہوگا، ان شاء اللہ۔ہماری اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ ابھی تک ہمارے ملک نے جنگ ٹالنے کے لیے ثالثی کا جو کردار ادا کیا ہے، اس کی گونج اقوامِ عالم میں’شکریہ پاکستان‘ کے نعروں سے سنائی دے رہی ہے۔

پوری دنیا، خاص طور پر اپنے خطے کو جنگ کی تباہی سے بچانے کے لیے پاکستان نے  کامیاب  سفارتکار کا کردار ادا کرکےعالمی منظر پر اپنے پُر امن ملک ہونے کا تاثر مضبوط کیا ہے۔اس طرح کوئی کچھ بھی کہے مگر اس جنگ بندی کا کریڈٹ پاکستان کو جاتا ہے۔ اس حوالے سے ہمارے پڑوسی دشمن ملک کے میڈیائی مافیا کے سینے پر جو سانپ لوٹ رہے ہیں، وہ ہماری بات کی تصدیق کے لیے کافی ہیں۔مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کل ایک بار پھر ہمارے آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی تعریف کی ہے اور عندیہ ظاہر کیا ہے کہ جنگ بندی کےمجوزہ  حتمی معاہدے یا اسلام آباد ڈیکلریشن پر دستخط کے موقع پر ہوسکتا ہے کہ وہ خود بھی پاکستان پہنچ جائیں۔

سہ فریقی مذاکرات کے لیے کامیاب سفارتکاری کے بعد پاکستان حکومت کو چاہیے کہ وہ  ایران کیساتھ تجارت کے لیے اپنے دروازے کھول دے اور اس کے لیے پہلا کرنے کا کام یہ ہونا چاہیے کہ  ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ اس وقت ہمارے حکمراں امریکا کی گڈ بُک میں ہیں، اس لیے وہ یہ مطالبہ منوا سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوگیا تو جہاں پاکستان کی توانائی یعنی گیس، بجلی کی ضروریات پوری ہوں گی، وہاں عوام کو مہنگائی سے ریلیف بھی ملے گا۔ کیوں کہ پیٹرول کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے ملک میں اشیائے صرف کے نرخوں میں بے مہار اضافہ ہو جاتا ہے۔ جیسے اس جنگی صورتحال میں 3 سو روپے سے کم فی لیٹر والا پیٹرول 5 سو روپے فی لیٹر سے بھی اوپر چلا گیا تھا۔

اگر پاکستان اپنا یہی مدبرانہ ثالثی کردار برقرار رکھتے ہوئے امریکا اور ایران کے مابین جنگ اور کشیدگی کی صورتحال ختم کروا دیتا ہے تو اس سے دنیا بھر میں ہماری نیک نامی ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے پر امن  ملک ہونے کا تاثر مضبوط ہوگا اور ہمارا ملک جو مسلم دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہونے کا فخر رکھتا ہے، وہ 50 سے زائد مسلمان ملکوں کا قائد بن جائے گا۔

ہمارے ملک میں استحکام سے دنیا کا ہم پر اعتماد بڑھے گا، جس سے ہمیں نئے معاشی اور تجارتی تعلقات قائم کرنے والے معاہدوں تک پہنچنے میں آسانی ہوگی، ہماری برآمد اور درآمد کے درمیان فرق کم ہوگا۔ اس سے بیشتر شعبوں پر  دباؤ کم ہوگا۔ اس کے علاوہ پاکستان کی عالمی مارکیٹ میں رسائی مزید آسان ہو جائے گی۔ جس کا فائدہ بہرحال گھوم پھر کر پاکستانی عوام کو ہوگا۔پاکستان کی کوششوں سے اس  کشیدگی کے خاتمے کے نتیجے میں ایران کے ساتھ ساتھ عرب  ملکوں کی معیشت پر بھی دباؤ کم ہوگا، جہاں اس وقت نصف کروڑ سے زیادہ پاکستانی محنت مزدوری کرکے پاکستان کو قیمتی زر مبادلہ بھیج رہے ہیں۔ پاکستان کی کامیاب ثالثی ایک بڑی سفارتی کامیابی ہو گی، جس سےہمارے ملک کے تعلقات ایک جانب امریکا سے مزید مضبوط ہوں گے اور دوسری جانب  ہمارا ہمسایہ ایران  موجودہ جنگی حالات سے  باہر نکل آئے گا۔ ہمیں یہ بھی بڑا معاشی اور تجارتی فائدہ ہوگا کہ ہمارے تجارتی بحری جہاز  آبنائے ہرمز کے بنا  کسی رکاوٹ گزر سکیں گے۔

ان سب باتوں کے پیش نظر یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ موجودہ حالات میں قدرت نے پاکستان کو اقوام عالم میں عزت کمانے، اپنے عوام کے حالات بہتر بنانے کا جو بہترین موقع فراہم کیا ہے، اس قیمتی ترین موقع کو کسی بھی قیمت پر ضائع نہ ہونے دیا جائے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

معروف ریپر اینڈی روس کا ریاست پاکستان، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو خراج تحسین

افغان کرکٹر راشد خان کا بھارت اور آسٹریلیا کی شہریت ٹھکرانے کا انکشاف

پاکستان اور مصر کے وزرائے خارجہ کا رابطہ، غزہ سمیت خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

امریکا میں جنونی شخص کی فائرنگ، ایک ہی خاندان کے 8 بچے ہلاک

کراچی: ایرانی کرنسی کی غیرقانونی خرید و فروخت میں ملوث ملزم گرفتار، ڈیڑھ ارب ریال برآمد

ویڈیو

معروف ریپر اینڈی روس کا ریاست پاکستان، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو خراج تحسین

کیا امریکا اور ایران کے درمیان ڈیل ہوگی یا خطہ ایک بار پھر جنگ کی طرف جائےگا؟

مذاکرات کا دوسرا دور: دارالحکومت میں سخت سیکیورٹی انتظامات، میرے نمائندے اسلام آباد جارہے ہیں، صدر ٹرمپ

کالم / تجزیہ

مطالعہ پاکستان : بنیان مرصوص ایڈیشن

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟

ہنساتے ببو برال کی اداس کہانی