اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر واپس کر دیے ہیں، جو مرکزی بینک میں محفوظ ڈپازٹ کے طور پر رکھے گئے تھے۔
اس پیش رفت سے ایک روز قبل پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی مدت میں توسیع کا معاہدہ ہوا تھا، جو اسٹیٹ بینک میں جمع ہے۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو اصل رقم کے ساتھ تقریباً 6 فیصد سود بھی ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ حالیہ دنوں میں پاکستان نے 1.43 ارب ڈالر بیرونی قرض بھی واپس کیا، جس میں 1.3 ارب ڈالر کا یورو بانڈ شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ملکی معیشت کے اہم اشاریے توقعات سے زیادہ تیزی سے بہتر ہوئے، گورنر اسٹیٹ بینک
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت زرِ مبادلہ کے ذخائر برقرار رکھنے کے لیے یورو بانڈ، اسلامی سکوک، دیگر ممالک سے قرض اور کمرشل فنانسنگ سمیت مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث پاکستان اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر قائم کرنے اور قابلِ تجدید توانائی کی جانب تیزی سے بڑھنے پر بھی غور کر رہا ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق پاکستان اپنے تمام قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ ملکی زرمبادلہ ذخائر اس وقت تقریباً 2.8 ماہ کی درآمدات کے برابر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر پروگرام میں تبدیلی یا اضافی مدد پر بھی بات کی جا سکتی ہے۔ توقع ہے کہ آئی ایم ایف جلد پاکستان کے لیے تقریباً 1.3 ارب ڈالر کی نئی قسط منظور کرے گا۔













