پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے صوبائی حکومت میں کرپشن کی تحقیقات کے لیے قائم اندرونی احتسابی کمیٹی کو ایک ایسے وقت میں مزید وسعت دی ہے جب پارٹی کے اندر سے مبینہ کرپشن کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں اور ایک ضلعی صدر نے کور کمانڈر سے باقاعدہ اپیل بھی کردی ہے۔
مزید پڑھیں: اسپیکر بابر سلیم کو کرپشن الزامات میں کلین چٹ دینے پر پی ٹی آئی کی احتساب کمیٹی میں اختلافات
پی ٹی آئی نے کرپشن کے خاتمے کے لیے ایک انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی کمیٹی بنائی تھی، جو سابق گورنر شاہ فرمان سمیت تین ارکان پر مشتمل ہے۔
کمیٹی کے سینیئر رکن شاہ فرمان کی ہدایت پر مزید کمیٹیاں بنانے کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے، جو صوبے کے مختلف اضلاع کے لیے قائم کی گئی ہیں۔
اعلامیے کے مطابق عوام کو کرپشن کے خلاف شکایات کے اندراج میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تمام اضلاع میں مزید ذیلی کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں۔
ان کمیٹیوں کا کام صرف کرپشن سے متعلق شکایات جمع کرنا، انہیں مرتب کرنا اور انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی کمیٹی کو ارسال کرنا ہے تاکہ وہ عمران خان کے سامنے پیش کی جا سکیں۔
مبینہ کرپشن کے خاتمے کے لیے صرف انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی کمیٹی ہی فعال نہیں، بلکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی ثبوت اور شواہد براہِ راست جمع کرانے کی اپیل کی ہے۔
اس کے باوجود بھی پی ٹی آئی کے رہنما کرپشن سے تنگ نظر آتے ہیں۔ چند روز قبل چترال میں کور کمانڈر پشاور کی زیرِ صدارت ایک اجلاس میں پی ٹی آئی اپر چترال کے صدر نے ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن کا معاملہ اٹھایا۔
اجلاس میں شریک ایک ذریعے نے بتایا کہ پی ٹی آئی ضلع اپر چترال کے صدر نے کور کمانڈر کے سامنے اعتراف کیاکہ ان کے ضلع میں ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن ہورہی ہے۔
ذریعے کے مطابق پی ٹی آئی رہنما نے یہ نہیں بتایا کہ مبینہ کرپشن میں کون ملوث ہے، تاہم انہوں نے اس کی روک تھام کے لیے اقدامات کی اپیل کی۔
انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی رہنما نے کور کمانڈر سے درخواست کی کہ وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تعاون سے ان کے ضلع میں مبینہ کرپشن کی روک تھام کے لیے اقدامات کریں۔
22 جون کے بعد کرپشن کے خلاف تحریک کا اعلان
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے تحصیل ناظم موڑکہو، تورکہو اپر چترال نے بھی کرپشن کے خلاف تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ناظم جمشید میر کے مطابق وہ عمران خان کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے اور ناظم رہتے ہوئے ان کی زبان بند ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ 22 جون کو ان کی مدت ختم ہو رہی ہے اور اسی دن سے وہ کرپشن کے خلاف تحریک کا آغاز کریں گے۔
انہوں نے اعلان کیا ہے کہ کرپشن میں ملوث تمام کرداروں کو بے نقاب کیا جائے گا۔
خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے اندر کرپشن کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ اپر چترال میں ہنگامی صورتحال کے بعد بحالی کے فنڈز میں مبینہ خردبرد پر بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں، اور پی ٹی آئی کے مقامی رہنماؤں نے مبینہ کرپشن کے خلاف پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی احتساب کمیٹی نے کرپشن الزامات پر اپنے ہی وزیر کو طلب کرلیا
یہ معاملہ اس وقت عدالت میں زیرِ سماعت ہے، جس میں پی ٹی آئی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ بحالی فنڈز میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر خردبرد ہوئی ہے۔












