گلگت بلتستان کے عام انتخابات آج، 24 نشستوں پر 400 سے زائد امیدوار میدان میں، پولنگ جاری

اتوار 7 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے پولنگ کا آغاز ہو گیا ہے اور ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی کے استعمال کے لیے پولنگ اسٹیشنوں کا رخ کر رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گلگت بلتستان کا آئندہ حکمران کون ہوگا، اس کا فیصلہ آج عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے کریں گے، جبکہ انتخابی عمل شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی اعتراضات مسترد: گلگت بلتستان ہمارا داخلی معاملہ، کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، پاکستان

الیکشن کمیشن کے مطابق گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں 1391 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں 551 کو انتہائی حساس اور 349 کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر 9 لاکھ 58 ہزار 480 رجسٹرڈ ووٹرز حقِ رائے دہی استعمال کریں گے، جبکہ 24 انتخابی نشستوں کے لیے 400 سے زائد امیدوار مدمقابل ہیں۔

سیاسی جماعتوں کے امیدواروں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے 23، مسلم لیگ (ن) کے 22، استحکامِ پاکستان پارٹی کے 15، پاکستان مسلم لیگ کے 11 اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 9 امیدوار شامل ہیں۔ مجلس وحدت المسلمین کے 7، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے 6، 6 امیدوار انتخابی دوڑ میں شریک ہیں، جبکہ 266 آزاد امیدوار بھی مختلف حلقوں سے قسمت آزما رہے ہیں۔

انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ مقامی پولیس، گلگت بلتستان اسکاؤٹس اور پنجاب پولیس کے اہلکار سیکیورٹی فرائض انجام دے رہے ہیں، جبکہ مختلف انتخابی حلقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فلیگ مارچ بھی کیا ہے۔

ضلع گلگت میں 3 حلقوں کے لیے مجموعی طور پر 253 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ ان میں سے 154 پولنگ اسٹیشن انتہائی حساس اور 48 حساس قرار دیے گئے ہیں۔ انتخابی سامان، بشمول بیلٹ بکس، بیلٹ پیپرز اور دیگر ضروری مواد، تمام پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچا دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان الیکشن: سیاسی گہما گہمی عروج پر، عوام جمہوری عمل کے لیے پرجوش

حلقہ جی بی اے-1 گلگت میں 23 امیدوار میدان میں ہیں۔ اس حلقے میں 47 ہزار 373 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جن میں 25 ہزار 412 مرد اور 21 ہزار 961 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ یہاں 80 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں 49 انتہائی حساس اور 31 حساس ہیں۔ پولنگ کے شفاف انعقاد کے لیے 1300 پولنگ عملہ اور 550 سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

حلقہ جی بی اے-2 گلگت میں 40 امیدوار مدمقابل ہیں جبکہ رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 55 ہزار 849 ہے، جن میں 29 ہزار 839 مرد اور 26 ہزار 10 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ اس حلقے میں 91 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں اور حساس مراکز پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

حلقہ جی بی اے-3 گلگت میں امیدواروں کی تعداد سب سے زیادہ 122 ہے۔ یہاں 52 ہزار 161 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں جن میں 27 ہزار 351 مرد اور 24 ہزار 810 خواتین شامل ہیں۔ اس حلقے کے 82 پولنگ اسٹیشنوں میں سے 16 انتہائی حساس اور 16 حساس قرار دیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان میں انتخابی مہم عروج پر، اقتدار کا تاج کس کے سر سجے گا؟

انتخابی تجزیہ کاروں کے مطابق کئی حلقوں میں کانٹے دار مقابلے متوقع ہیں۔ جی بی اے-1 گلگت میں پیپلز پارٹی کے امجد حسین، مسلم لیگ (ن) کے شفیق الدین، استحکامِ پاکستان پارٹی کے سلطان رئیس اور آزاد امیدوار آصف عثمانی کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔ جی بی اے-2 گلگت میں مسلم لیگ (ن) کے حافظ حفیظ الرحمان، پیپلز پارٹی کے جمیل احمد، استحکامِ پاکستان پارٹی کے فتح اللہ اور آزاد امیدوار عتیق پیرزادہ نمایاں امیدوار ہیں۔

اسی طرح جی بی اے-18 دیامر میں سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور استحکامِ پاکستان پارٹی کے امیدوار گلبر خان کا مقابلہ مسلم لیگ (ن) کے کفایت الرحمان سے متوقع ہے، جبکہ جی بی اے-19 غذر میں آزاد امیدوار نواز خان ناجی، پیپلز پارٹی کے جلال شاہ اور مسلم لیگ (ن) کے ظفر محمد اہم امیدواروں میں شامل ہیں۔ جی بی اے-13 استور میں آزاد امیدوار شاہدہ خورشید، مسلم لیگ (ن) کے رانا فرمان علی اور پیپلز پارٹی کے فہد حنیف کے درمیان دلچسپ مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان انتخابات: معذور ووٹرز کو پولنگ اسٹیشن تک پہنچنے میں مشکلات

ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ ووٹرز کو محفوظ ماحول فراہم کرنے اور شفاف، آزادانہ و پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے فول پروف سیکیورٹی پلان نافذ کر دیا گیا ہے تاکہ عوام بلا خوف و خطر اپنا جمہوری حق استعمال کر سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp