پاکستان علما کونسل، انٹرنیشنل تنظیمِ حرمین شریفین کونسل اور دارالافتا پاکستان نے حجاج کرام اور عمرہ زائرین کے لیے ایک جامع ضابطہ اخلاق جاری کیا ہے جس میں حرمین شریفین کے تقدس اور سعودی قوانین کی مکمل پاسداری پر زور دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ طاہر اشرفی کا عرب ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے لیے اہم پیغام
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، مولانا حافظ محمد طارق محمود، مولانا اسعد زکریا، علامہ طاہر الحسن اور دیگر علما و مشائخ نے زائرین کو سعودی وزارتِ حج و عمرہ کی ہدایات پر عمل کی اپیل کی۔ ضابطہ اخلاق میں واضح کیا گیا کہ حجاج کرام رش کے ایام میں حدودِ حرم میں جہاں بھی نماز ادا کریں گے، انہیں ایک لاکھ نماز کا ثواب ملے گا، لہٰذا ازدحام سے بچنے کے لیے حدودِ حرم کا خیال رکھیں۔
Pakistan Ulema Council and Darul Afat Pakistan issue code of conduct for Hajj and Umrah pilgrims by nisar.khan74
علما نے سخت تنبیہ کی کہ سعودی عرب میں مقیم افراد بغیر اجازت نامے (حج پرمٹ) کے حج نہ کریں، کیونکہ یہ شرعی اور قانونی طور پر جائز نہیں ہے، اس لیے حج و عمرہ پر روانگی سے قبل مکمل معلومات حاصل کریں اور کسی بھی غیر رجسٹرڈ یا غیر قانونی آن لائن گروپ سے بکنگ نہ کروائیں۔ اگر معلومات نہ ہوں تو سفر کے دوران کسی جاننے والے یا وزارتِ مذہبی امور کے نمائندوں سے رہنمائی لیں تاکہ کسی قسم کی گھبراہٹ کا شکار نہ ہونا پڑے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدے پر وزیراعظم اور آرمی چیف کو خراجِ تحسین، علما کونسل کا یوم تشکر منانے کا اعلان
ضابطہ اخلاق میں زائرین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی نیت کو خالص اللہ کے لیے رکھیں کیونکہ حج و عمرہ دنیا کی نمود و نمائش کے لیے نہیں ہے، اس لیے عبادت کے دوران ویڈیوز اور تصاویر بنانے سے حتی الامکان اجتناب کریں اور ایئرپورٹ پر روانگی میں تاخیر پر پریشان ہونے کے بجائے ذکر و اذکار اور درود شریف پڑھیں۔
دورانِ حج سیاسی میدان سجانے یا کسی ایسی کوشش کا حصہ بننے کی بھی سختی سے ممانعت کی گئی ہے جس سے حرمین کے امن میں خلل پڑے، اور زائرین کو ایسے افراد یا گروہوں سے مکمل دور رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔ منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں قیام کے دوران اپنے گروپ قائد کی ہدایات پر عمل کریں، افواہوں پر توجہ نہ دیں اور رمی جمرات کے دوران جلد بازی سے کام نہ لیں کیونکہ کسی بھی حادثے کی صورت میں ذمہ دار کون ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان علما کونسل نے حجاج کرام کے لیے ضابطہ اخلاق جاری کر دیا
رمی جمرات کے معاملے میں معذوروں، بیماروں اور خواتین کے لیے دی گئی شرعی رخصت اور سہولیات کو مدنظر رکھا جائے اور بلاوجہ مشکلات پیدا نہ کی جائیں۔ مزید برآں، یہ واضح کیا گیا کہ مملکتِ سعودی عرب میں بھیک مانگنا، منشیات لے جانا یا کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونا بہت بڑا جرم ہے جس سے زائرین کو مکمل طور پر دور رہنا چاہیے۔
کانفرنس کے دوران ایک قرارداد بھی منظور کی گئی جس میں پاکستان کے تمام مکاتبِ فکر کے علما، مشائخ اور سیاسی و مذہبی قائدین نے حجاج و زائرین کے لیے سعودی عرب کی خدمات اور انتظامی تبدیلیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
قرارداد میں واضح کیا گیا کہ پاکستان سمیت تمام ممالک کے حجاج، منتظمین اور حکومتیں مملکتِ سعودی عرب کی حج پالیسی پر عمل درآمد کی پابند ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین کی تعلیم کی مخالفت کرنے والے لوگ جہلا ہیں، چیئرمین پاکستان علما کونسل علامہ طاہر اشرفی
پریس کانفرنس میں مفتی محمد انتخاب، مولانا اسد اللہ فاروق، حافظ مقبول احمد، مولانا محمد اسلم صدیقی، قاری عبدالحکیم اطہر، مولانا محمد اشفاق پتافی اور دیگر اکابرین بھی شریک تھے۔
ان تمام قائدین کا کہنا تھا کہ سعودی عرب جو اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے، اس کے اداروں کی کوشش ہوتی ہے کہ اللہ کے مہمانوں کی بھرپور خدمت کر سکیں، اس لیے حجاج پر بھی لازم ہے کہ وہ ضابطہ اخلاق اور سعودی قوانین کی مکمل پاسداری کریں۔














