سربراہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک کو یہ سمجھنا ہوگا کہ امریکا کے فوجی اڈے ان کے لیے دفاعی فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے منگل کو لاہور میں سینیئر صحافیوں کے ساتھ خصوصی نشست میں ملکی وعالمی صورتحال، سیاست اور خارجہ پالیسی پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔
اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی حالات تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ سکتے ہیں، اور اگر صورتحال برقرار رہی تو بڑی طاقتیں بھی اس میں شامل ہو سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی سفارتکار زکری ہارکن رائیڈر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان ثالثی کے ذریعے دنیا کو ممکنہ عالمی جنگ سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے.
انہوں نے بتایا کہ ان کی جماعت کے تحریک انصاف کے ساتھ رابطے کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدہ خوش آئند ہے اور اس کو سراہتے ہیں.
’تاہم خطے میں پالیسیوں کے تسلسل اور بہتری کی ضرورت ہے کیونکہ حکمرانوں کا موجودہ عروج عارضی ہے۔‘
افغانستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جلدی ہے جبکہ افغانستان وقت چاہتا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان معاملات الجھے ہوئے ہیں اور حالات خراب ہو رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: حکومت عالمی قوتوں کی پراکسی بننے کی کوشش نہ کرے، حافظ نعیم اور مولانا فضل الرحمان کی مشترکہ پریس کانفرنس
سی پیک کے حوالے سے انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ عمران خان کے دور میں بند ہوا اور اب تک فعال نہیں ہو سکا، سوال یہ ہے کہ پالیسی میں تسلسل کون برقرار رکھ رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2018 اور 2024 کے انتخابات میں مماثلت ہے اور یہی رجحان ضمنی انتخابات میں بھی نظر آ رہا ہے، جس کی مثال کوئٹہ، زیارت اور قلات میں دیکھی جا سکتی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملک میں انتخابی دھاندلی کے الزامات سیاستدانوں کے بجائے اداروں پر لگتے ہیں اور یہ ایک تشویشناک رجحان ہے۔
مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمان کی پاک افغان سرحدی صورتحال پر اظہار تشویش
ان کے مطابق ادارے سیاست کو مینیج کرتے ہیں اور اپنی مرضی کا توازن قائم رکھتے ہیں۔
مدارس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف، عمران خان اور موجودہ حکومت کی پالیسیاں ایک جیسی رہی ہیں۔
انہوں نے شکایت کی کہ مدارس کی رجسٹریشن کا قانون منظور ہونے کے باوجود عملی اقدامات نہیں کیے جا رہے، نہ رجسٹریشن ہو رہی ہے اور نہ ہی بینک اکاؤنٹس کھولے جا رہے ہیں، بلکہ مدارس کو حکومتی بورڈز میں شامل ہونے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے عالمی نظام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں کمیونزم اور جمہوریت کمزور ہو رہی ہیں جبکہ سرمایہ داری، آمریت اور عسکریت کے امتزاج سے نظام چل رہا ہے۔














