ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شریک نہیں ہوں گے تاہم پاکستان اس کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
اسلام آباد میں پاکستان اور ایران کے سفارتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے پاکستان رابطے اور کوششیں کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات: پاکستان ماضی میں کب کب عالمی سفارتکاری کا مرکز بنا؟
اس سے قبل گزشتہ روز سے جاری کشیدہ صورتحال کے تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ قیامِ امن کے لیے پاکستان اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔
صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز کشیدہ حالات کے تناظر میں اپنے سوشل میڈیا ٹروتھ سوشل پر کہا کہ اس کے باوجود امریکی وفد کل مذاکرات کے لیے اسلام آباد جائے گا۔ اُنہوں نے اِسے ایران کے لیے کسی بھی قسم کی ڈیل کے لیے آخری موقع قرار دیا اور کہا کہ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں ایران کو شدید جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تازہ ترین صورتحال سے باخبر ایک عہدیدار نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ موجودہ مُشکلات کی وجہ صدر ٹرمپ کا روّیہ ہے جنہوں نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم نہیں کی اور سیز فائر کی خلاف ورزیاں بھی کیں۔ لیکن پاکستان اپنے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور اُمید ہے کہ آج رات یا کل صبح تک چیزیں بہتر ہو جائیں گی۔
پاکستانی حکام کے مطابق پاکستان نے اپنی کوششیں ترک نہیں کیں اور وہ فریقین سے رابطوں میں ہے اور مسئلے کے حل کے لیے بھرپور سفارتی اقدامات کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں:عالمی سفارتکاری میں پاکستان کا ڈنکا بج گیا، وزیرخارجہ اسحاق ڈار دنیا کے مقبول ترین لیڈر قرار
یہاں قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جنگ بندی کی معیاد ختم ہونے میں اب کچھ ہی گھنٹے باقی ہیں۔ 20 اور 21 اپریل کی درمیانی شب جنگ بندی معاہدہ ختم ہو جائے گا۔ اِس لحاظ سے آنے والے چند گھنٹے مذاکرات کی کامیابی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔














