بھارت میں طنز و مزاح سے جنم لینے والی ایک انوکھی سیاسی تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹ‘ نے اب باقاعدہ ایک بڑی احتجاجی مہم کی شکل اختیار کر لی ہے۔
امرتسر میں تعلیمی نظام کے خلاف ایک بڑے عوامی اجتماع کے بعد’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی اس بڑی نئی تنظیم نے اب بنگلورو اور جے پور میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تحریک اب ملک کے مختلف حصوں میں تیزی سے جڑیں پکڑ رہی ہے۔
تنظیم کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کردہ باقاعدہ بیانات کے مطابق حامیوں اور عام شہریوں کو 14 جون کو بنگلورو اور 15 جون کو جے پور میں ہونے والے پُرامن احتجاجی مظاہروں میں بھرپور شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی دھوم، نوجوانوں نے مودی کے ہندو مسلم بیانیے کو چیلنج کردیا
منتظمین کا کہنا ہے کہ ان مظاہروں کا مقصد عوامی مسائل بالخصوص بے روزگاری اور مہنگائی پر حکومت کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز امرتسر گیٹ پر ایک بہت بڑا احتجاجی اجتماع منعقد ہوا تھا، جہاں مظاہرین نے وفاقی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔
I am travelling to reach Bengaluru .. to support this relevant peaceful protest.. please join us to raise our voice and make the government accountable for its failure .. #justasking pic.twitter.com/WAFUIHx8IT
— Prakash Raj (@prakashraaj) June 13, 2026
اس تحریک کو اس وقت ایک بڑی کامیابی ملی جب نامور بھارتی اداکار، فلم ڈائریکٹر اور سماجی کارکن پرکاش راج نے بنگلورو میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں خود شرکت کرنے کی تصدیق کی۔
ابتدا میں یہ مہم صرف حکمران جماعت ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ (بی جے پی) کی پالیسیوں پر تنقید کرنے کے لیے ایک طنزیہ آن لائن ٹرینڈ کے طور پر شروع ہوئی تھی، لیکن اب یہ نوجوانوں کی بے روزگاری، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی جوابدہی جیسے سنجیدہ مطالبات پر مبنی ایک وسیع قومی تحریک بن چکی ہے۔
سوشل میڈیا پر اس تحریک کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ منتظمین کے مطابق صرف فوٹو اور ویڈیو شیئرنگ ایپ ‘انسٹاگرام’ پر اس کے فالوورز کی تعداد 22 ملین سے تجاوز کر چکی ہے۔
سڑکوں پر نکلنے والے مظاہرین اپنے انوکھے انداز، خود پر طنز اور مزاحیہ میمز کے ذریعے عوام کی توجہ حاصل کر رہے ہیں اور اب مختلف شہروں میں بننے والے پیروڈی اکاؤنٹس نے بھی ‘کاکروچ’ کی علامت کو اپنا کر اسے سیاسی طنز اور احتجاج کا ایک بڑا نشان بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیں:بھارت میں ’کاکروچ یوتھ موومنٹ‘ کا احتجاجی آغاز، مودی حکومت کے خلاف دلی میں مظاہرہ
اس تحریک کا پس منظر گزشتہ ماہ سپریم کورٹ آف انڈیا کے ایک جج سوریا کانت کے مبینہ بیان سے جڑا ہوا ہے۔
سپریم کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران انہوں نے مبینہ طور پر بعض احتجاج کرنے والے بے روزگار نوجوانوں کے لیے ‘کاکروچ’ یعنی لال بیگ کی اصطلاح استعمال کی تھی، جس پر نوجوانوں اور سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے شدید ردِعمل سامنے آیا۔
بھارتی نوجوانوں نے اس توہین آمیز لفظ کو ایک گالی کے طور پر لینے کے بجائے اسے اپنی ‘مزاحمت اور استقامت’ کی علامت بنا لیا۔
ان کا مؤقف ہے کہ جس طرح کاکروچ سخت ترین حالات اور ہر قسم کے موسم میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسی طرح معاشی بدحالی اور بے روزگاری کے باوجود بھارت کا غریب اور مڈل کلاس نوجوان بھی حکومتی بے حسی کے خلاف ڈٹا رہے گا۔ تعلیمی نظام میں خرابیوں اور حالیہ امتحانی سکینڈلز کی وجہ سے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان اس تحریک کا بنیادی ہدف بنے ہوئے ہیں۔














