سائنس دانوں نے پہلی بار پیراگوئے میں میٹھے پانی کی ایک نایاب جیلی فش کی موجودگی ریکارڈ کی ہے۔ یہ ننھی جیلی فش ایک سیلاب زدہ اور الگ تھلگ کان (کھدائی کے مقام) میں دریافت ہوئی، جس کا کسی دریا یا ندی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
یہ دریافت کراسپیڈاکوسٹا سووربئی نامی میٹھے پانی کی جیلی فش کی ہے، جسے نیشنل یونیورسٹی آف اسونسیون کے فیکلٹی آف ایکزیکٹ اینڈ نیچرل سائنسز سے تعلق رکھنے والے محقق گونزالیز دے دوس سانتوس نے یپاکارائی کے علاقے میں دریافت کیا۔
یہ بھی پڑھیں:جھیل سی گہری یہ آنکھیں ایک سمندری مخلوق کی جنہیں جلد ہی نظر لگ گئی
اس تحقیق کو سائنسی جریدے ’ایکو سسٹیماس‘ میں شائع کیا گیا ہے اور یہ پیراگوئے میں اس نوع کی پہلی باضابطہ رپورٹ قرار دی جا رہی ہے۔
سمندری جیلی فش سے بالکل مختلف
اگرچہ اسے جیلی فش کہا جاتا ہے، لیکن یہ عام سمندری جیلی فش سے کافی مختلف دکھائی دیتی ہے۔ بالغ جیلی فش کا قطر صرف ایک سے ڈھائی سینٹی میٹر تک ہوتا ہے اور اس کا جسم تقریباً شفاف، گھنٹی نما شکل کا حامل ہوتا ہے، جس کے ساتھ باریک اور لمبے ٹینٹیکلز (خیمہ نما اعضا) موجود ہوتے ہیں۔
چین سے دنیا بھر تک پھیلاؤ
یہ نوع اصل میں چین کے دریائے یانگ زی کے طاس سے تعلق رکھتی ہے۔ وقت کے ساتھ یہ انٹارکٹیکا کے علاوہ دنیا کے تقریباً تمام براعظموں میں پھیل چکی ہے، جس کے باعث اسے دنیا کی سب سے زیادہ پھیلی ہوئی میٹھے پانی کی حملہ آور انواع میں شمار کیا جاتا ہے۔تاہم اس کا انتہائی چھوٹا سائز اور شفاف جسم اسے عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رکھتا ہے۔
الگ تھلگ کان تک جیلی فش کیسے پہنچی؟
سائنس دانوں کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ جیلی فش اس کان تک کیسے پہنچی، کیونکہ اس جگہ کا کسی دریا، ندی یا قدرتی آبی گزرگاہ سے کوئی رابطہ موجود نہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ جاندار ممکنہ طور پر آلودہ پانی، غوطہ خوری کے آلات یا دیگر سامان کے ذریعے ایک آبی مقام سے دوسرے مقام تک منتقل ہوا ہوگا اور اسی طرح اس کان تک پہنچا۔
برسوں تک پوشیدہ رہنے کی صلاحیت
تحقیقی ماہرین کے مطابق اس نوع کا سراغ لگانا آسان نہیں، کیونکہ اس کی زندگی کا بیشتر حصہ ایک انتہائی چھوٹے پولیپ مرحلے میں گزرتا ہے، جو مناسب حالات پیدا ہونے تک تقریباً نظر نہیں آتا۔ اسی وجہ سے یہ جاندار کئی برسوں تک کسی علاقے میں موجود رہ سکتا ہے، لیکن اس کی موجودگی کا علم نہیں ہو پاتا۔
مزید پڑھیں:برطانیہ میں 11 سالہ بچے نےسمندری مخلوق کی 202 ملین سالہ پرانی باقیات دریافت کر لیں
انسانوں کے لیے کوئی خطرہ نہیں
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اس میٹھے پانی کی جیلی فش سے انسانوں کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں ہے۔ اس کے ڈنک مارنے والے خلیے، جنہیں نیمیٹوسسٹس کہا جاتا ہے، صرف ننھے آبی جانداروں یعنی زوپلانکٹن کو پکڑنے کے لیے بنے ہوتے ہیں اور انسانوں پر اثر انداز نہیں ہوتے۔
ماحولیاتی نگرانی کی اہمیت اجاگر
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ غیر متوقع دریافت اس بات کی یاد دہانی ہے کہ آبی انواع انتہائی دور دراز اور الگ تھلگ مقامات تک بھی پہنچ سکتی ہیں۔ یہ واقعہ میٹھے پانی کے ماحولیاتی نظاموں کی مسلسل نگرانی اور حملہ آور انواع کی بروقت نشاندہی کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔














