سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیراعظم شہبازشریف اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار خطے میں امن کے لیے تاریخی کردار ادا کررہے ہیں۔
مسلم لیگ ن گلگت بلتستان کے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ سیاست کا مقصد شاہانہ ٹھاٹ باٹ، سرکاری گاڑیوں میں گھومنا یا محض کرسیوں پر بیٹھنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ عوام کی حقیقی خدمت ہی اصل سیاست ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا نواز شریف سیاسی منظر نامے پر واپس آ رہے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ ہم نے چترال میں لواری ٹنل بنائی ہے، اس پر بھی بہت پیسا خرچ ہوا ہے، اگر یہ کہا جائے کہ چترال کی آبادی بہت کم ہے اور اس پر ٹنل بنا کے اتنا پیسا خرچ کیا گیا تو یہ بہت بری بات ہے، وفاقی حکومت گلگت بلتستان کو فنڈز دے تاہم گلگت بلتستان خود بھی اپنا حصہ ڈالے، بجٹ کا پیسا جیبوں میں نہیں جانا چاہیے۔
نواز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے دور میں جی بی میں 60ارب روپے کی لاگت سے بننے والی سڑک سے فاصلے کم ہوئے، وزیراعظم شہباز شریف بھی گلگت بلتستان کی ترقی پر توجہ دے رہے ہیں۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ چاہے ترقیاتی میدان ہو، سیاسی ہو یا دفاعی میدان ہو، ہم نے کام کرکے دکھایا ہے، دنیا ساری اس بات کو جانتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات 2026: ن لیگ نے پارلیمانی بورڈ تشکیل دے دیا، نواز شریف سربراہ مقرر
انہوں نے کہا کہ 1998میں سبزپاسپورٹ کی عزت بڑھی تھی اور آج وزیراعظم شہبازشریف کی سربراہی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیرخارجہ نے ملک کے لیے عمدہ اور تاریخی کردار ادا کیا ہے، آج پھر اسی سبز پاسپورٹ کی عزت ہورہی ہے۔
’’پنجاب ماڈل‘ کی پیروی کریں جہاں وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی قیادت میں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھایا گیا‘
نواز شریف نے منتخب نمائندوں کو ہدایت کی کہ وہ ’پنجاب ماڈل‘ کی پیروی کریں جہاں وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی قیادت میں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو بھی مفت ادویات، بہترین ٹرانسپورٹ اور معیاری تعلیم کی ویسی ہی سہولیات ملنی چاہئیں جیسی پنجاب میں میسر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ صرف اورصرف نوازشریف کا تھا: مشاہد حسین
ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی جغرافیائی اہمیت اور سیاحتی صلاحیت کے پیش نظر یہاں ایسے منصوبے شروع کیے جائیں گے جو نہ صرف مقامی لوگوں کی زندگی بدل دیں گے بلکہ پوری دنیا سے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کریں گے۔
’خیبرپختونخوا کے عوام پوچھنے پر مجبور ہیں کہ ان کی زندگیوں میں بہتری کیوں نہیں آتی‘
سابق وزیراعظم نے خیبر پختونخوا کی گزشتہ 15 سالہ کارکردگی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا وہاں کے عوام کو صحت اور تعلیم کی بنیادی سہولیات میسر ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جب ہم ترقی کے کام ہوتے نہیں دیکھتے تو پوچھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ عوام کی زندگیوں میں بہتری کیوں نہیں آئی۔
’گلگت بلتستان مجھے اتنا عزیز ہے جتنا مجھے کشمیر، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا عزیز ہیں۔ خیبر پختونخوا میں پچھلے 15 سال سے ایک جماعت کی حکومت ہے، نہ صحت و علاج کی سہولیات ہیں، نہ ٹرانسپورٹ کی سہولت ہے، نہ اچھی تعلیم مل رہی ہے۔ کیا وہاں کوئی سکھ کا سانس لے رہا ہے؟‘
’60 ارب روپے سے زائد کی لاگت سے سڑکوں کا جال بچھانے سے علاقے کی تقدیر بدل جائے گی‘
انہوں نے گلگت بلتستان کے رہنماؤں کو یقین دلایا کہ وہ وفاق اور پنجاب سے فنڈز دلوانے کے لیے خود ان کے ’سفیر‘ کا کردار ادا کریں گے تاکہ مالی مشکلات ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔ نواز شریف نے مزید کہا کہ 60 ارب روپے سے زائد کی لاگت سے سڑکوں کا جال بچھانے سے علاقے کی تقدیر بدل جائے گی اور وہ دن دور نہیں جب گلگت بلتستان ترقی کے میدان میں سب سے آگے ہوگا۔













