سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے ایک مرتبہ پھر فعال سیاست میں متحرک ہونے کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔
اس بارے میں تبصروں میں اس وقت اضافہ ہوا جب پیر کے روز انہوں نے اپنی پارٹی کی دیگر سینیئر قیادت کے ہمراہ گلگت بلتستان انتخابات کے لیے پارٹی کے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس کی صدارت کی اور انتہائی اہم فیصلے کیے۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات 2026: ن لیگ نے پارلیمانی بورڈ تشکیل دے دیا، نواز شریف سربراہ مقرر
نواز شریف پیر کے روز اسلام آباد میں پنجاب ہاؤس پہنچے، جہاں وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزرا اور پارٹی کے سینیئر رہنما احسن اقبال، خواجہ آصف، رانا ثنا اللہ، امیر مقام مریم اورنگزیب اور پرویزرشید نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
بعد ازاں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے نواز شریف نے گلگت بلتستان کے انتخابات کے حوالے سے پارٹی حکمت عملی، امیدواروں کے انتخاب اور انتخابی مہم کے خدوخال پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کے انتخابات میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر حصہ لے گی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ان کی حکومت نے گلگت بلتستان میں امن قائم کیا اور بڑے ترقیاتی منصوبے متعارف کروائے۔
گلگت الیکشن کے لئے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس،نوازشریف کی پنجاب ہاؤس آمد،شہبازشریف اور مریم نواز نے استقبال کیا pic.twitter.com/C6KIIY1cut
— WE News (@WENewsPk) April 20, 2026
ان کا کہنا تھا کہ پارٹی تمام حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کرے گی اور اللہ کے فضل سے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ امیدواروں کے انتخاب کے لیے ایک واضح اور شفاف طریقہ کار اپنایا جائے گا، جبکہ ہر حلقے کی صورتحال پر تفصیلی مشاورت جاری ہے اور حتمی فہرست جلد نواز شریف کو پیش کی جائے گی۔
اجلاس کے بعد مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کے رہنما شمس میر نے وی نیوز کو بتایا کہ نواز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے انتخابات میں دلچسپی ظاہر کرنا ایک خوش آئند پیشرفت ہے۔ اجلاس میں ٹکٹوں کی تقسیم کے لیے میرٹ، پارٹی وابستگی، خدمات اور وژن کو بنیادی معیار قرار دیا گیا ہے، البتہ فی الحال کسی دوسری جماعت سے اتحاد کرنے کی بات نہیں کی گئی۔
مزید پڑھیں:نواز شریف کو اقتدار سے نکالنے کے لیے پرتشدد لندن منصوبے کا گواہ ہوں، صحافی اظہر جاوید
نواز شریف کی گلگت بلتستان انتخابات میں زاتی دلچسپی اورانتخابی مہم کی سربراہی کو تجزیہ کار فعال سیاست میں واپسی سے تعبیر کر رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ نواز شریف اس کے ذریعے اپنی پارٹی کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مبصرین کے مطابق توقع کی جارہی ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات کے بعد نواز شریف آزاد کشمیر کے انتخابات میں بھی مرکزی کردار ادا کریں گے۔
اس بارے میں سینیئر صحافی اظہر جاوید نے گذشتہ دنوں وی نیوز کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ وہ حال ہی میں نوازشریف سے مل کر آئے ہیں اور نوازشریف مکمل طور پر سیاسی کھیل کا حصہ ہیں اور اس وقت اگلے انتخابات کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔
اظہر جاوید کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف، نواز شریف کو ہر بات سے باخبر رکھے ہوئے ہیں اوران سے تمام معاملات پر مکمل مشاورت کرتے ہیں۔
تاہم سینئر سیاسی تجزیہ کاراحمد ولید کے مطابق نوازشریف کی گلگت بلتستان انتخابات کے لیے قائم کردہ بورڈ کے اجلاس میں شرکت بلاشبہ غیر معمولی ہے لیکن بظاہر وہ خود عملی سیاست میں فعال ہونے کے خواہاں نظر نہیں آتے۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان پارلیمانی بورڈ کے اجلاس کی صدارت اور وہاں کے انتخابات کے متعلق کیے گئے اہم فیصلوں کو نوازشریف کی سیاست میں واپسی سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔
مزید پڑھیں:نواز شریف اور مریم نواز کی زیر صدارت مری میں اجلاس، اسکائی گلاس برج سمیت سیاحتی منصوبوں کی منظوری
نواز شریف عملی طور پر سیاست سے کافی حد تک کنارہ کشی اختیار کیے ہوئے ہیں اوروہ کسی بھی طرح فرنٹ لائن سیاست میں آنے کے خواہاں نہیں دکھائی دیتے۔
احمد ولید کے مطابق نواز شریف زیادہ تر ایک پرسکون زندگی گزار رہے ہیں اور صرف کبھی کبھار مریم نواز کے پنجاب میں جاری کچھ منصوبوں پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، اس سے بڑھ کر ان کی کوئی عملی سیاسی سرگرمی نظر نہیں آتی۔ اس وقت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی عملی سیاست کی باگ ڈور شہباز شریف کے ہاتھ میں ہے، جو اتحادی جماعتوں سے رابطے رکھتے ہیں اور تمام اہم سیاسی معاملات کو خود ہی چلا رہے ہیں۔













