عالمی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول کا کہنا ہے کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نے دنیا کو بدترین توانائی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے فرانسیسی ریڈیو کو بتایا کہ یہ واقعی تاریخ کا سب سے بڑا بحران ہے، پیٹرول اور گیس کے بحران کے ساتھ ساتھ روس اور یوکرین جنگ کے اثرات کو ملا کر صورتحال پہلے ہی نہایت سنگین ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: توانائی کا ممکنہ عالمی بحران اور اس سے بچت کی صورت
انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے، جو عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً 5ویں حصے کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔
"Situata është jashtëzakonisht e brishtë", thotë shefi i IEA-së, Fatih Birol duke paralajmëruar se tensionet në Ngushticën e Hormuzit ekspozojnë dobësitë globale të energjisë.https://t.co/9uwPdbGx0U
— TRT Balkan AL (@TRTBalkanAL) April 21, 2026
ان کے مطابق یہ بحران اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب روس اور یوکرین کی جنگ کے باعث یورپ کو روسی گیس کی فراہمی پہلے ہی منقطع ہو چکی تھی۔
مزید پڑھیں:عالمی توانائی بحران مہینوں تک جاری رہ سکتا ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا انتباہ
فاتح بیرول نے اس ماہ کے آغاز میں کہا تھا کہ موجودہ عالمی توانائی بحران 1973، 1979 اور 2022 کے بحرانوں سے بھی زیادہ شدید ہے۔
مارچ میں عالمی توانائی ایجنسی نے امریکا-اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے نتیجے میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے تذویراتی ذخائر سے ریکارڈ 40 کروڑ بیرل تیل جاری کرنے پر اتفاق کیا تھا۔












