فیفا ورلڈ کپ 2026 میں پہلے صومالی ریفری بننے کا منفرد اعزاز حاصل کرنے کے بالکل قریب پہنچنے والے معروف فٹبال ریفری عمر عبدالقادر آرتان کا امریکا میں داخل ہونے سے روکے جانے کے بعد وطن واپسی پر فقید المثال استقبال کیا گیا۔
موغادیشو کے عدن عبداللہ بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہزاروں کی تعداد میں موجود مداحوں، سرکاری حکام اور کھیلوں سے وابستہ شخصیات نے انہیں ’قومی ہیرو‘ قرار دیتے ہوئے فقید المثال استقبال کیا اور ملک کا مان رکھنے پر انہیں ہیرو قرار دیتے ہوئے خوش آمدید کہا۔
🚨|𝐍𝐄𝐖: 𝗔𝗻 𝗲𝘀𝘁𝗶𝗺𝗮𝘁𝗲𝗱 𝟳𝟬,𝟬𝟬𝟬 people have gathered at Mogadishu Stadium to welcome Somali international referee Omar Abdulkadir Artan following his arrival at Mogadishu’s Adan Abdulle International Airport.
Omar Named as Africa’s best referee last year, Artan… pic.twitter.com/jID9JuVY7V
— Abdikarin Dahir (@Abdikarindahirr) June 10, 2026
عمر عبدالقادر آرتان کی وطن واپسی کے موقع پر پورا ملک ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہا ہے اور ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر صومالی عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
ایئرپورٹ پر تاریخی مناظر اور جذباتی استقبال
موغادیشو کے عدن عبداللہ بین الاقوامی ہوائی اڈے پر صبح ہی سے ہزاروں شائقین، فٹبال کلبز کے نمائندے اور صومالی حکومت کے اعلیٰ حکام جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:فیفا ورلڈ کپ 2026 3 ممالک میں شاندار افتتاحی تقریبات کا آغاز، شکیرا، کیٹی پیری اور برنا بوائے مدعو
جیسے ہی عمر آرتان لاؤنج سے باہر آئے، فضا ‘عمر آرتان، صومالیہ کا فخر’ کے نعروں سے گونج اٹھی۔ ان پر گل پاشی کی گئی اور ان پر صومالی پرچم رکھا گیا۔ محدود وسائل اور ملکی سیکیورٹی چیلنجز کے باوجود عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کرنے والے اس سپوت کا استقبال کسی ورلڈ کپ جیتنے والے فاتح سے کم نہ تھا۔
امریکا کا مایوس کن فیصلہ اور سفارتی ناکامی
عمر عبدالقادر آرتان، جو 2018 سے فیفا کے باقاعدہ ریفری ہیں، 2023 کے افریقی کپ آف نیشنز میں بہترین امپائرنگ کے بعد 2025 میں ’افریقہ کے بہترین ریفری‘ کا ایوارڈ بھی اپنے نام کر چکے ہیں۔
وہ رواں سال فیفا ورلڈ کپ کے لیے منتخب ہونے والے صومالیہ کی تاریخ کے پہلے ریفری بنے۔ تاہم، جب وہ ورلڈ کپ کے فرائض کے لیے امریکا پہنچے، تو میامی ہوائی اڈے پر امریکی امیگریشن حکام نے صومالی پاسپورٹ کی وجہ سے انہیں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور وہیں سے واپس ترکیہ کے دارلحکومت استنبول بھیج دیا۔
صومالی حکومت نے امریکا کے اس متعصبانہ فیصلے پر شدید ترین افسوس کا اظہار کیا ہے۔ حکام کے مطابق امریکی انتظامیہ کے ساتھ وسیع پیمانے پر سفارتی رابطے کیے گئے اور اعلیٰ سطح پر مذاکرات بھی ہوئے، لیکن امریکی حکام نے اپنی ہٹ دھرمی برقرار رکھی۔
دوسری جانب فٹبال کی عالمی تنظیم ‘فیفا’ نے روایتی سرد مہری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ’امیگریشن سے متعلق فیصلے متعلقہ ملکی حکام کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں اور فیفا اس میں مداخلت نہیں کر سکتا‘۔
سخت حالات کے باوجود نوجوانوں کے لیے امید کا پیغام
وطن واپسی پر میڈیا اور عوام کے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبدالقادر آرتان جذباتی ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ ’مجھے ورلڈ کپ کا حصہ نہ بننے دینے کا افسوس ضرور ہے، لیکن اپنے ہم وطنوں کا یہ پیار دیکھ کر میرا سارا دکھ دور ہو گیا ہے۔
میں صومالیہ کے نوجوانوں سے کہوں گا کہ وہ ان مشکل حالات کے باوجود اپنے خوابوں کا پیچھا کرنا نہ چھوڑیں اور اپنے ملک سے کبھی مایوس نہ ہوں۔ یہ ایک سفر کا اختتام نہیں، بلکہ ایک نئی شروعات ہے‘۔
مزید پڑھیں:فیفا ورلڈ کپ 2026 سے قبل امریکا کی نئی سفری ہدایت، میکسیکو جانے والے شائقین کو احتیاط برتنے کا مشورہ
عمر آرتان نے صومالی حکومت، فٹبال فیڈریشن اور عوام کی جانب سے ملنے والی بے پناہ حمایت اور یکجہتی پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
صدرِ صومالیہ کا خراجِ تحسین اور مستقبل کا سنگِ میل
صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود نے عمر عبدالقادر آرتان کو خصوصی طور پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں نئی نسل کے لیے ‘حوصلے، محنت اور کامیابی کی علامت’ قرار دیا۔
صومالیہ کے کھیلوں کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمر آرتان نے جس طرح بارود اور سیکیورٹی چیلنجز کے سائے میں پرورش پا کر موغادیشو کی گلیوں سے فیفا کے عالمی اسٹیج تک کا سفر طے کیا، وہ صومالی فٹبال کی تاریخ کا سب سے بڑا اور یادگار سنگِ میل رہے گا۔ امریکا نے انہیں ویزا نہ دے کر اپنا نقصان کیا ہے، کیونکہ آرتان کی قابلیت کسی پاسپورٹ یا ویزے کی محتاج نہیں ہے۔













