تقریباً 4 ہزار سال پرانی دوا اسپرین جو عام طور پر درد کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہے کینسر کے خطرے کو کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سائنس فکشن یا حقیقت، کیا کینسر کے علاج کا انقلابی دور شروع ہوگیا؟
بی بی سی کے مطابق طبی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ اب اس دوا کے اثرات کی وجوہات کو بہتر طور پر سمجھا جانے لگا ہے۔
حالیہ سائنسی مطالعات کے مطابق اسپرین نہ صرف بعض اقسام کے ٹیومرز بننے سے روک سکتی ہے بلکہ کینسر کے جسم میں پھیلاؤ (میٹاسٹیسس) کو بھی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے اور خاص طور پر آنتوں کے کینسر کے حوالے سے اس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جینیاتی بیماری لنچ سنڈروم کے شکار افراد میں کی جانے والی ایک بڑی تحقیق سے معلوم ہوا کہ روزانہ اسپرین لینے سے آنتوں کے کینسر کا خطرہ تقریباً 50 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ کم مقدار (75 سے 100 ملی گرام) میں اسپرین کا استعمال بھی مؤثر ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیے: اے آئی اب صرف آواز سن کر کینسر کی نشاندہی کر سکتا ہے، نئی تحقیق میں انکشاف
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اسپرین جسم میں سوزش پیدا کرنے والے ایک اہم انزائم (Cox-2) کو روکتی ہے جو خلیوں کی بے قابو نشوونما کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ خون کو پتلا کر کے مدافعتی نظام کو کینسر کے خلیات کو پہچاننے اور ختم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
ان نتائج کے بعد بعض ممالک جیسے برطانیہ اور سویڈن نے ہائی رسک افراد کے لیے اسپرین کو بطور حفاظتی دوا اپنی طبی گائیڈ لائنز میں شامل کرنا شروع کر دیا ہے۔
اسپرین مفید تو ہے لیکن۔۔۔
ماہرین نے ساتھ ہی خبردار بھی کیا ہے کہ اسپرین کے کچھ مضر اثرات بھی ہو سکتے ہیں جن میں معدے کے مسائل، اندرونی خون بہنا اور السر شامل ہیں اس لیے اسے باقاعدگی سے استعمال کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: کتے نے ابتدائی اسٹیج کینسر کی نشاندہی کرکے مالکن کی جان بچالی
ماہرین کے مطابق اگرچہ اسپرین کے فوائد امید افزا ہیں لیکن یہ ہر فرد یا ہر قسم کے کینسر کے لیے یکساں مؤثر نہیں اس لیے اس کا استعمال احتیاط اور طبی نگرانی میں ہی کیا جانا چاہیے۔













