جاپان میں حکومت کی جانب سے ملک کے امن پسند آئین میں ممکنہ ترمیم کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں تیزی آ گئی ہے، جہاں ہزاروں افراد نے دارالحکومت ٹوکیو سمیت مختلف شہروں میں ریلیاں نکالیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ جاپان کا آئین، خصوصاً آرٹیکل 9، ملک کو جنگ سے دور رکھنے کی ضمانت دیتا ہے اور اسے تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس شق کے تحت جاپان جنگ کو قومی حق کے طور پر ترک کرتا ہے اور بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے طاقت کے استعمال سے گریز کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: جنگ بندی ختم ہونے میں چند گھنٹے باقی، کچھ بڑا ہونے والا ہے، ٹرمپ کی ایرانی قیادت سے ملنے کی خواہش
اتوار کو جاپانی پارلیمان کے باہر تقریباً 36 ہزار افراد جمع ہوئے اور ایران جنگ کے خاتمے کے ساتھ ساتھ آئین کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ اس سے قبل فروری میں 3 ہزار 600 اور مارچ میں 24 ہزار افراد احتجاج میں شریک ہوئے تھے۔
احتجاج میں نوجوانوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔ 22 سالہ طالب علم گوہتا ہاشی موتو نے کہا کہ وہ اپنے ملک کو پرامن رکھنا چاہتے ہیں۔ 28 سالہ پروگرامر یوری ہیوکی نے کہا کہ آئین جاپان کو امریکا کی جنگوں سے دور رکھتا ہے، اسی لیے وہ اس کے دفاع کے لیے نکلی ہیں۔
مظاہرین نے ’آئین سے ہاتھ ہٹاؤ‘ اور ’امریکا کی خوشامد بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے۔ کئی افراد روشنی والے اسٹکس اور آرٹیکل 9 کی علامت غباروں کے ساتھ شریک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے: جاپان کی پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری بہتر بنانے کے لیے نئی کاوشیں، 4 لاکھ ڈالر فراہم کردیے
وزیراعظم سانائے تاکائیچی آئینی ترمیم کی حامی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ شمالی کوریا اور چین کے بڑھتے خطرات کے تناظر میں موجودہ آئین جاپان کی دفاعی صلاحیت محدود کرتا ہے۔
سیاسی ماہرین کے مطابق ایران جنگ اور خطے کی کشیدگی نے جاپانی نوجوانوں میں یہ خوف بڑھا دیا ہے کہ آئینی تبدیلی کی صورت میں ملک بیرونی جنگوں میں الجھ سکتا ہے، اسی لیے احتجاجی تحریک مضبوط ہو رہی ہے۔













