انٹرنیشنل والی بال فیڈریشن (ایف آئی وی بی) نے انڈیا والی بال فیڈریشن کی باضابطہ منظوری فوری طور پر منسوخ کر دی ہے۔ فیصلے کے بعد بھارتی والی بال نظام میں انتظامی بحران پیدا ہو گیا ہے، جبکہ عالمی ادارے نے کھیل کے تسلسل اور کھلاڑیوں کے مفاد کے لیے عبوری انتظامی کمیٹی قائم کر دی ہے۔
عالمی والی بال گورننگ باڈی ایف آئی وی بی نے انڈیا والی بال فیڈریشن کی منظوری ’قانونی اور انتظامی تقاضوں کی خلاف ورزی‘ کے باعث فوری طور پر ختم کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایشین یوتھ گیمز: پاکستان والی بال ٹیم نے چین کو ہرا کر سیمی فائنل میں جگہ بنالی
فیصلے کے بعد ایف آئی وی بی نے ایک اسٹیئرنگ کمیٹی کو کھیل کی نگرانی، کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود اور انتظامی معاملات کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔ اس کمیٹی میں انڈین اولمپک ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو کونسل رکن روہت راج پال، چیف ایگزیکٹو آفیسر رگھورام ایئر، ایف آئی وی بی کے جنرل اسپورٹس ڈائریکٹر اسٹیو ٹٹن، ہیڈ آف لیگل افیئرز اسٹیفن بوک اور ہیتیش ملہوترا شامل ہیں۔
ایف آئی وی بی کے مطابق یہ فیصلہ اس بنیاد پر کیا گیا کہ انڈیا والی بال فیڈریشن کی عبوری قیادت عالمی ادارے کے مقرر کردہ قانونی اور انتظامی معیار پر پوری نہیں اتر سکی۔

عالمی ادارے نے واضح کیا ہے کہ اسٹیئرنگ کمیٹی عارضی طور پر بھارتی والی بال کے تمام معاملات سنبھالے گی تاکہ کھیل کی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔ کمیٹی کو ریاستی ایسوسی ایشنز کے انتخابات، کھلاڑیوں کی کمیٹی کے قیام، قومی ٹیم کے شفاف انتخابی نظام اور آئینی اصلاحات جیسے اہم امور کی نگرانی کی ذمہ داری بھی دی گئی ہے۔
ایف آئی وی بی نے کہا ہے کہ کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود اس کی اولین ترجیح ہے، اسی لیے عبوری سیٹ اپ کے دوران تسلسل اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔ عالمی ادارہ بھارت میں والی بال کی ترقی کے لیے 2026 میں 2 لاکھ 58 ہزار امریکی ڈالر کی معاونت بھی فراہم کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان نے ایران کو ہراکر ایشین انڈر 16 والی بال چیمپیئن شپ جیت لی
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب چند روز قبل بھارتی قومی کیمپ میں دو سینیئر کھلاڑیوں نے خراب انتظامات، غیر پیشہ ورانہ کوچنگ اور سلیکشن میں مبینہ سیاسی مداخلت کے باعث کیمپ چھوڑ دیا تھا، جس کے بعد نظام پر پہلے ہی سوالات اٹھ رہے تھے۔













