جنوبی کوریا میں لڑاکا طیاروں کے ایک خطرناک تصادم کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ حادثہ پائلٹس کی جانب سے یادگاری تصاویر بنانے کی کوشش کے دوران پیش آیا۔ واقعے میں جانی نقصان تو نہیں ہوا، تاہم طیاروں کو شدید نقصان پہنچا اور فوج کو بھاری مالی خسارہ اٹھانا پڑا۔
تفصیلات کے مطابق جنوبی کوریا کے مرکزی شہر ڈیگو میں 2021 کے دوران پیش آنے والے دو لڑاکا طیاروں کے تصادم کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ حادثہ پائلٹس کی جانب سے پرواز کے دوران تصاویر اور ویڈیوز بنانے کی کوشش کے باعث پیش آیا۔
یہ انکشاف بورڈ آف آڈٹ اینڈ انسپیکشن کی حالیہ رپورٹ میں سامنے آیا، جس میں بتایا گیا کہ دونوں F-15K لڑاکا طیارے ایک معمول کی فلائٹ مشن پر تھے جب یہ واقعہ پیش آیا۔
رپورٹ کے مطابق خوش قسمتی سے حادثے میں دونوں پائلٹس محفوظ رہے اور انہیں کوئی چوٹ نہیں آئی، تاہم طیاروں کو شدید نقصان پہنچا جس کی مرمت پر تقریباً 880 ملین وون خرچ آئے۔
یہ بھی پڑھیے احمد آباد طیارہ حادثہ، بھارتی تاریخ کے بدترین فضائی سانحات میں المناک اضافہ
تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت پائلٹس کے درمیان اہم پروازوں کی یادگاری تصاویر لینا ایک عام رجحان تھا۔ متعلقہ پائلٹ نے پرواز سے قبل بریفنگ کے دوران تصاویر لینے کا ارادہ بھی ظاہر کیا تھا، کیونکہ وہ معاون (ونگ مین) طیارہ اڑا رہا تھا اور مرکزی طیارے کی پیروی کر رہا تھا۔
حادثے کی اصل وجہ اس وقت بنی جب معاون پائلٹ نے بہتر زاویہ حاصل کرنے کے لیے اچانک طیارے کا رخ بدلا۔ اسی دوران مرکزی طیارے کے پائلٹ نے بھی اس عمل کو دیکھتے ہوئے اپنے عملے کو ویڈیو بنانے کی ہدایت دی، جس کے نتیجے میں دونوں طیارے خطرناک حد تک قریب آ گئے۔
رپورٹ کے مطابق مرکزی طیارے کے پائلٹ نے فوری طور پر نیچے کی جانب جھکاؤ اختیار کیا، تاہم اس کے باوجود دونوں طیارے آپس میں ٹکرا گئے اور نقصان کا شکار ہوئے۔
ابتدائی طور پر فضائیہ نے معاون پائلٹ کے خلاف مرمت کے تمام اخراجات کا دعویٰ دائر کیا، تاہم پائلٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ مرکزی پائلٹ نے اس عمل کی ’خاموش اجازت‘ دی تھی۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ متعلقہ پائلٹ اب فوج چھوڑ چکا ہے اور ایک کمرشل ایئرلائن سے وابستہ ہے۔ مزید یہ کہ اس کے سابقہ ریکارڈ کو بھی مدنظر رکھا گیا، اور اس بات کو سراہا گیا کہ اس نے بروقت طیارے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر کے مزید نقصان سے بچایا۔














