بنگلہ دیش کے ساحلی علاقے کاکس بازار میں پولیس نے بدھ کے روز ایک ہندو مندر کے خادم کی مسخ شدہ لاش ایک پہاڑی علاقے سے برآمد کی ہے، جسے 3 روز قبل 2 نامعلوم افراد نے مبینہ طور پر گھر سے اغوا کرلیا تھا۔
متوفی کی شناخت 40 سالہ نین داس کے نام سے ہوئی ہے، جو کاکس بازار صدر اپ ضلع کی خوروشکل یونین میں واقع سری سری شیو کالی مندر کا نگراں تھا۔
وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ مندر کے قریب ہی رہائش پذیر تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: ہندو فارمیسی مالک کے قتل میں ملوث 3 ہندو ملزمان گرفتار
اہل خانہ کے مطابق 19 اپریل کی رات تقریباً 9 بجے 2 نامعلوم افراد ان کے گھر آئے اور اسے باہر بلایا، جس کے بعد وہ واپس نہیں آیا۔
مقتول کی اہلیہ انجنا شیل نے بتایا کہ انہوں نے قریبی علاقوں میں اپنے خاوند کو تلاش کیا اور اگلی صبح مندر سے تقریباً 50 سے 60 گز دور ایک پہاڑی جنگل میں ایک شال نما کپڑا ملا، جو غالباً ان کے شوہر کا تھا۔
کسی ناخوشگوار واقعے کے خدشے کے پیش نظر انہوں نے پیر کے روز کاکس بازار صدر تھانے میں جنرل ڈائری درج کرائی۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: ہندو فارمیسی مالک کے قتل میں ملوث 3 ہندو ملزمان گرفتار
پولیس کے مطابق بدھ کی صبح مقامی افراد نے پولیسیا گھونا پہاڑی علاقے میں ایک درخت سے لٹکی لاش دیکھی اور حکام کو اطلاع دی، جس کے بعد پولیس نے لاش کو تحویل میں لے لیا۔
تفتیشی افسر ہمل رائے کا کہنا ہے کہ لاش کافی حد تک گل چکی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر موت اسی روز واقع ہوئی جب وہ لاپتا ہوا۔
تاہم پولیس تاحال یہ تعین نہیں کر سکی کہ یہ خودکشی ہے یا منصوبہ بندی کے تحت قتل، لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے کاکس بازار صدر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر تشدد: بھارت میں سیریز کی منسوخی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا
مقامی ہندو برادری کے رہنما اور بنگلہ دیش پوجا اُدجپن پریشد کے جنرل سیکریٹری جونی دھر نے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالات مشتبہ قتل کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مقتول کی کسی سے ذاتی دشمنی معلوم نہیں تھی، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔














