وزارت توانائی نے ملک بھر میں سولر سسٹم لگوانے والے صارفین کے لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے لائسنس کے حصول کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ نئی ترامیم کے تحت اب صارفین کو اپنی ضرورت کے مطابق بجلی پیدا کرنے کے لیے باقاعدہ قانونی اجازت نامہ لینا ہوگا، جس سے پہلے سے موجود بعض استثنیٰ ختم کردیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سولر صارفین کے لیے خوشخبری، نیپرا کا موجودہ صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ پالیسی برقرار رکھنے کا فیصلہ
نیپرا کے مطابق ماضی میں 25 کلو واٹ تک کے سولر سسٹم نصب کرنے والے صارفین کو تقسیم کار کمپنیاں (ڈسکوز) خود لائسنس جاری کرنے کی مجاز تھیں، تاہم اب پاور ڈویژن کی جانب سے کی گئی ترامیم کے تحت یہ تمام اختیارات نیپرا کو منتقل کردیے گئے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد اب صارفین کو اپنے سسٹم کے لوڈ کے مطابق مقررہ فیس ادا کرنی ہوگی اور نیپرا کے نام کا پے آرڈر جمع کروانا ہوگا۔
نئی پالیسی کی ایک اہم تبدیلی لائسنس فیس کا نفاذ ہے۔ پہلے 25 کلو واٹ تک کے سسٹم پر لائسنس مفت جاری کیا جاتا تھا، مگر اب صارفین کو ایک ہزار روپے فی کلو واٹ کے حساب سے اضافی فیس ادا کرنی ہوگی۔ ان ترامیم کے تحت نیٹ بلنگ پروجیکٹ پر کنکشن دیے جائیں گے، تاہم ایسے صارفین جو ‘ہائبرڈ ٹیکنالوجی’ استعمال کررہے ہیں، انہیں اس لائسنس کی شرط سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: سولر صارفین کے لیے خوشخبری، وفاقی حکومت نے بڑا اعلان کردیا
دوسری جانب ترجمان پاور ڈویژن نے وضاحت کی ہے کہ نیپرا لائسنس کے حوالے سے قواعد و ضوابط پہلے سے موجود ہیں اور یہ ریگولیٹر کا دائرہ اختیار ہے جس پر ڈسکوز عمل درآمد کراتی ہیں۔ ترجمان نے ان خبروں کی تردید کی کہ یہ محض وفاقی حکومت کے براہِ راست احکامات ہیں، بلکہ اسے موجودہ ریگولیٹری فریم ورک کا حصہ قرار دیا ہے۔














