پاکستان کے بڑے ہوائی اڈوں پر مسافروں کے رش کو کم کرنے اور سفری عمل کو جدید بنانے کے لیے وزارت داخلہ اور وزارتِ دفاع نے مشترکہ طور پر ’ون ونڈو‘ ایئرپورٹ کلئیرنس سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نئے نظام کے تحت ایئرپورٹس پر ای گیٹس اور اسمارٹ اسکینرز نصب کیے جائیں گے جس سے امیگریشن اور چیکنگ کا وقت منٹوں سے سمٹ کر سیکنڈز میں رہ جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وزارت داخلہ اور وزارت دفاع کی مشترکہ حکمت عملی، اسلام آباد ایئرپورٹس میں مشترکہ چیکنگ اور ای گیٹس نصب ہوں گے
بدھ کے روز وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں دفاعی اور داخلہ امور کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایئرپورٹس پر مختلف اداروں کی جانب سے الگ الگ چیکنگ کے بجائے ایک ہی مقام پر مشترکہ کاؤنٹرز بنائے جائیں گے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ تمام اداروں کی جانب سے ایک ہی اسکینر پر متحد چیکنگ سے نہ صرف مسافروں کا قیمتی وقت بچے گا بلکہ ایئرپورٹ پر ہجوم میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔

جدید ٹیکنالوجی کے اس منصوبے کے تحت ایئرپورٹس پر ای گیٹس لگائے جائیں گے جو بائیومیٹرک پاسپورٹ اور چہرہ پہچاننے والے سافٹ ویئر کا استعمال کریں گے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے امیگریشن کلئیرنس کا اوسط وقت جو پہلے 3 سے 5 منٹ تھا، اب کم ہو کر صرف 45 سیکنڈ رہ جائے گا۔
یہ سسٹم ایف آئی اے کی ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) اور انٹرپول کے ڈیٹا بیس سے بھی منسلک ہوگا تاکہ مشکوک مسافروں کی فوری نشاندہی ہوسکے، نئے نظام کا آغاز مرحلہ وار کیا جائے گا جس کا پہلا مرکز اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ ہونے کا امکان ہے
یہ بھی پڑھیں: جاپانی کمپنی کراچی سمیت 3 ایئرپورٹس کے لیے ایکسپلوسو ڈیٹیکشن سسٹم فراہم کرے گی
حکام کے مطابق یہ اقدامات ایک ایسے وقت میں کیے جارہے ہیں جب پاکستان میں فضائی مسافروں کی تعداد میں سالانہ 12 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور 2025 میں تقریباً ساڑھے 25 ملین مسافروں نے پاکستانی ایئرپورٹس استعمال کیے۔
وزیرِ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ تیز رفتار کلئیرنس کا مقصد کسی صورت سیکیورٹی پر سمجھوتہ کرنا نہیں ہے بلکہ انسانی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کو جدید اسکینرز کے ذریعے مزید سختی سے روکا جائے گا۔














