امریکا کے وزیر بحریہ جان سی فیلن نے اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
امریکی بحریہ کے وزیر کی جانب سے استعفیٰ دینے کی تصدیق پینٹاگون کی جانب سے کی گئی ہے، تاہم ان کے استعفے کی وجوہات سامنے نہیں لائی گئیں۔
پینٹاگون کے مطابق انڈر سیکریٹری ہنگ کاؤ اب قائم مقام وزیر بحریہ کے فرائض انجام دیں گے۔
یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نومبر 2024 میں جان سی فیلن کو اس عہدے کے لیے نامزد کیا تھا۔ اس وقت ان کی تقرری پر تنقید بھی ہوئی تھی کہ انہیں بحریہ، عسکری امور یا قومی سلامتی پالیسی اور دفاعی صنعت کا خاطر خواہ تجربہ حاصل نہیں۔
بعد ازاں سی فیلن فروری 2025 میں سینیٹ کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے، جہاں مارچ 2025 میں انہیں 30 کے مقابلے میں 62 ووٹوں سے اس عہدے کے لیے توثیق حاصل ہوئی۔
اس سے قبل ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈ جارج کو بھی فوری طور پر عہدہ چھوڑنے پر مجبور کیا تھا۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بدستور جاری ہے، تاہم پاکستان کی درخواست پر صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز جنگ بندی میں توسیع کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج اپنے ایک بیان میں کہاکہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جمعے کو ہو سکتا ہے۔














