حکومت پنجاب نے معدنی شعبے کو فروغ دینے کے لیے اہم قانون سازی کرتے ہوئے محفوظ اور جنگلاتی علاقوں میں کان کنی کی اجازت دینے کے 2 مختلف مسودہ قوانین منظور کر لیے۔
پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ’جنگلات (ترمیم) ایکٹ 2026‘ اور ’پنجاب پروٹیکٹڈ ایریاز (ترمیم) ایکٹ 2026‘ کثرتِ رائے سے منظور کیے گئے، جن کے تحت بالترتیب جنگلات ایکٹ 1927 اور پنجاب پروٹیکٹڈ ایریاز ایکٹ 2020 میں ترامیم کی جائیں گی۔
مزید پڑھیں: شمال مشرقی بھارت میں کوئلے کی کان میں دھماکا، 18 مزدور ہلاک
قانون کے متن کے مطابق ان ترامیم کا مقصد جنگلاتی علاقوں میں موجود قیمتی معدنی وسائل کے حصول کی راہ ہموار کرنا اور کان کنی کے منصوبوں کے لیے موجود قانونی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ بل کے تحت مخصوص شرائط کے ساتھ محفوظ اور جنگلاتی علاقوں میں معدنی سرگرمیوں کی اجازت دی جا سکے گی۔
ترامیمی مسودوں میں کہا گیا ہے کہ قومی اہمیت کے منصوبوں کو جنگلاتی اراضی میں معدنی سرگرمیوں کے اختیارات دیے جائیں گے، جبکہ جنگلاتی زمین کو کان کنی کے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے لیے ایک باقاعدہ قانونی فریم ورک بھی تشکیل دیا جائے گا۔
حکام کے مطابق یہ اقدامات قومی معدنی پالیسی سے ہم آہنگی اور معاشی ترقی کے پیش نظر کیے گئے ہیں، کیونکہ غیر واضح قوانین اور پابندیوں کے باعث کئی کان کنی منصوبے تعطل کا شکار تھے۔
مزید پڑھیں: بھارت میں جنگلی ہاتھیوں کی آبادی میں 25 فیصد کمی، وجوہات کیا ہیں؟
مزید کہا گیا ہے کہ ریگولیٹڈ نظام کے ذریعے غیر قانونی کان کنی کی روک تھام، روزگار کے مواقع میں اضافہ اور قومی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکے گا۔
مسودہ قوانین کی حتمی منظوری اب گورنر پنجاب کی جانب سے دی جائے گی، جس کے بعد یہ قوانین نافذ العمل ہو جائیں گے۔














