ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے سال 2025 کے لیے پاکستان کے ساتھ اپنے تعاون کو مزید وسعت دیتے ہوئے مجموعی طور پر 3.672 ارب ڈالر کے نئے مالیاتی وعدوں کا اعلان کیا ہے، عالمی مالیاتی ادارے کی سالانہ رپورٹ کے مطابق یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 22 فیصد زیادہ سرمایہ کاری ہے، جس میں پہلی بار معدنیات کے شعبے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:حکومت پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان 300 ملین ڈالر سے زیادہ کے دو منصوبوں پر دستخط
رپورٹ کے مطابق اے ڈی بی نے پاکستان کے پبلک سیکٹر کے لیے 1.485 ارب ڈالر کی نئی مالی امداد کے وعدے کیے ہیں، جو کہ 2024 کے مقابلے میں ایک تہائی زیادہ ہے۔ بینک نے معدنیات سے مینوفیکچرنگ تک کی ویلیو چین کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان میں تانبے اور سونے کی کان کے منصوبے کے لیے ایک اختراعی مالیاتی پیکج کی منظوری بھی دی ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر تانبے کی سپلائی چین کو بہتر بنانا ہے۔
پاکستان کو درپیش مالیاتی دباؤ اور خسارے میں کمی کے لیے بینک نے 800 ملین ڈالر کے پیکج کا وعدہ کیا ہے، جس میں 300 ملین ڈالر کا پالیسی قرض اور 500 ملین ڈالر کی پالیسی گارنٹی شامل ہے۔ اس اقدام کا مقصد حکومت کو ٹیکس پالیسیوں میں بہتری، عوامی اخراجات کے انتظام اور ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے مالیاتی خسارے اور عوامی قرضوں کو کم کرنے میں مدد دینا ہے تاکہ سماجی شعبے پر اخراجات کے لیے گنجائش پیدا کی جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی صرف 20 فیصد آبادی کو صاف پانی نصیب، ایشیائی ترقیاتی بینک
خواتین کی معاشی شمولیت کے حوالے سے اے ڈی بی نے 350 ملین ڈالر مختص کیے ہیں، جس کا مقصد خواتین کی ملکیت والے کاروباری اداروں کو مالی مدد فراہم کرنا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے تقریباً 20 لاکھ خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کی کاروباری صلاحیتوں کو نکھارنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ تعلیمی شعبے میں لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے 100 ملین ڈالر کے قرض اور 7 ملین ڈالر کی گرانٹ سے 1,700 ملٹی پرپز لیبارٹریز قائم کی جائیں گی، جن میں سے 50 فیصد سے زائد لڑکیوں کے اسکولوں میں بنائی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کے لیے 33 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دے دی
اے ڈی بی کے صدر مساتو کانڈا نے رپورٹ میں کہا ہے کہ بینک نے ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے میں پیچیدہ چیلنجز کے باوجود ریکارڈ سطح پر تعاون فراہم کیا ہے، جس سے لاکھوں ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ اور تعلیمی اصلاحات کے لیے بھی مشاورتی تعاون فراہم کیا جاتا رہے گا تاکہ پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔














