‘مجھے اکیلا نہ چھوڑنا،’ زخمی لبنانی صحافی نے اسرائیلی حملے کا آنکھوں دیکھا حال بتا دیا

ہفتہ 25 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایک لبنانی صحافی نے اسرائیلی فضائی حملے میں اپنی ساتھی صحافی کی ہلاکت کے بعد گزرنے والے خوفناک لمحات کی تفصیلات بیان کی ہیں۔

حملے میں زخمی ہونے والی فوٹوگرافر اور ویڈیو جرنلسٹ زینب فرج نے بتایا کہ وہ اور ان کی ساتھی امل خلیل جنوبی لبنان کے علاقے العطی میں رپورٹنگ کے دوران ایک حملے کی زد میں آ گئیں۔

یہ بھی پڑھیے: اسرائیل اور لبنان کی جنگ بندی میں 3 ہفتے کی توسیع، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

زینب فرج کے مطابق وہ دونوں ایک گاڑی کے پیچھے موجود تھیں جب اچانک ایک اسرائیلی حملہ ہوا اور بعد میں مزید حملے کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک دکان میں پناہ لینے پر مجبور ہوئیں جہاں وہ اور امل خلیل کئی گھنٹے تک شدید زخمی حالت میں پھنسے رہے اور مدد کا انتظار کرتی رہیں۔

زینب فرج نے کہا کہ اس دوران امل خلیل کی حالت بگڑتی رہی اور وہ بار بار کہتی رہیں کہ انہیں اکیلا نہ چھوڑا جائے۔ ان کے مطابق امل کو اندرونی خون بہنے سمیت شدید زخم آئے۔

رپورٹ کے مطابق ریسکیو اداروں، لبنانی فوج اور اقوام متحدہ کی امن فورس کے درمیان رابطے کے باوجود علاقے تک فوری رسائی ممکن نہ ہو سکی۔ بعد ازاں ایک اور حملے میں عمارت منہدم ہو گئی جس میں امل خلیل پھنس کر جاں بحق ہو گئیں جبکہ زینب فرج کو بعد میں ریسکیو کر لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پروسٹیٹ کینسر میں مبتلا، سرجری کا انکشاف

لبنانی وزارت اطلاعات کے مطابق مارچ کے بعد سے اب تک متعدد صحافی اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ صحافتی تنظیموں نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے آزاد اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp