برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) میں ڈاکٹروں کی شدید کمی کے باعث اسپتالوں میں نرسوں کو ڈاکٹرز کی جگہ طبی خدمات انجام دینے پر تعینات کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس پر مریضوں کی حفاظت کے حوالے سے سنگین خدشات سامنے آ گئے ہیں۔
برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق ‘ایڈوانسڈ پریکٹیشنرز’ کے نام سے جانے جانے والے تجربہ کار نرسیں ایمرجنسی، انتہائی نگہداشت، نوزائیدہ بچوں کے یونٹس اور دیگر شعبوں میں ڈاکٹروں کی ڈیوٹیاں سر انجام دے رہی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً نصف اسپتال ڈاکٹروں کی کمی پوری کرنے کے لیے ان نرسوں کو استعمال کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ڈاکٹر حسنات خان نے جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ذمہ داریاں سنبھال لیں، وزیراعلیٰ پنجاب کی مبارکباد
برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن نے اس عمل کو غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ طریقہ علاج معیار کو متاثر کر سکتا ہے اور بعض صورتوں میں مریضوں کی ہلاکت یا نقصان کا سبب بھی بنا ہے۔
این ایچ ایس انگلینڈ نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ یہ نرسیں اعلیٰ تربیت یافتہ ہیں، لیکن انہیں ڈاکٹروں کی جگہ تعینات نہیں کیا جانا چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق کچھ اسپتالوں میں یہ نرسیں ڈاکٹروں کے برابر شفٹیں کر رہی ہیں، یہاں تک کہ ایمرجنسی میں استعمال ہونے والے بیجز بھی ان کے پاس ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا: ڈاکٹروں کی بھرتی کے لیے نیا اور شفاف میرٹ فارمولا نافذ
دوسری جانب رائل کالج آف نرسنگ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایڈوانسڈ نرسیں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور خود مختار پیشہ ور ہیں جو محفوظ طبی خدمات فراہم کرتی ہیں اور ڈاکٹروں کی جگہ نہیں بلکہ ٹیم کا حصہ ہیں۔
ماہرین صحت نے ڈاکٹروں کی کمی کے مسئلے کے مستقل حل کے بجائے اس عارضی اقدام پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔














