نیویارک سٹی کے میئر زوہران ممدانی کو اس وقت شدید تنقید کا سامنا ہے جب انہوں نے نفرت انگیز جرائم خصوصاً یہودی مخالف واقعات سے نمٹنے کے لیے تیار کیے گئے ایک دو طرفہ بل کو ویٹو کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بل تعلیمی اداروں کے اطراف سیکیورٹی اقدامات مضبوط بنانے اور احتجاج کے دوران ممکنہ تشدد، دھمکی اور رکاوٹوں کو روکنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ تاہم میئر ممدانی نے اسے ویٹو کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے دائرہ کار میں بہت زیادہ وسعت ہے، جس سے احتجاج کے بنیادی حق پر اثر پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بطور میئر نیویارک ابتدائی 100 دن میں کیا کیا؟ ظہران ممدانی نے اپنی کارکردگی بتا دی
ان کا کہنا تھا کہ اس قانون سے وہ مظاہرین متاثر ہو سکتے ہیں جو امیگریشن پالیسی، ماحولیات یا فلسطینی حقوق کے حق میں احتجاج کرتے ہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ قانون کی موجودہ شکل آئینی تحفظات اور اظہارِ رائے کی آزادی سے متعلق خدشات پیدا کرتی ہے۔
دوسری جانب نیویارک سٹی کونسل کی اسپیکر جولی مینین نے اس قانون کو یہود مخالف واقعات کے خلاف اہم قدم قرار دیا تھا۔ ان کے مطابق شہر میں رپورٹ ہونے والے نفرت انگیز جرائم میں یہودی برادری سب سے زیادہ متاثر ہے، اس لیے تعلیمی اداروں کے گرد سیکیورٹی منصوبہ ضروری ہے۔

سابق گورنر اینڈریو کوومو نے بھی میئر کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدم تعلیمی اداروں اور یہودی طلبہ کی حفاظت کو کمزور کر سکتا ہے۔
بل کے تحت پولیس کو تعلیمی اداروں کے اطراف ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے جامع سیکیورٹی پلان تیار کرنا تھا، جس میں جسمانی رکاوٹ، دھمکی اور مداخلت کو روکنے کے اقدامات شامل تھے، تاہم ساتھ ہی پرامن احتجاج کی اجازت بھی برقرار رہتی۔
یہ بھی پڑھیں:ظہران ممدانی کی نیو یارک میں اسٹیٹ ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
میئر نے وضاحت کی کہ وہ مذہبی مقامات سے متعلق ایک ملتے جلتے بل کی حمایت کر چکے ہیں، لیکن تعلیمی اداروں کی وسیع تعریف کی وجہ سے موجودہ قانون پر اعتراض کیا ہے۔
اب یہ معاملہ نیویارک سٹی کونسل میں دوبارہ جا سکتا ہے، جہاں 2 تہائی اکثریت سے میئر کے ویٹو کو مسترد کیا جا سکتا ہے، جس کے لیے 50 میں سے 33 ووٹ درکار ہوں گے۔














