پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر نوشین زیدی نے اپنی غیر معمولی تحقیقی خدمات کے اعتراف میں معتبر ترین ‘جارج فورسٹر ریسرچ ایوارڈ’ جیت کر تاریخ رقم کردی ہے۔
وہ یہ باوقار اعزاز حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی بن گئی ہیں، جو انہیں پبلک ہیلتھ اور اپلائیڈ ریسرچ کے شعبے میں ان کے نمایاں کام پر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر نوشین زیدی پنجاب یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف مائیکرو بائیولوجی اینڈ مالیکیولر جینیٹکس میں پروفیسر کے طور پر خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 2025 کا ’بہترین اردو ادیب‘ ایوارڈ پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف کے نام
جارج فورسٹر ریسرچ ایوارڈ جرمنی کی الیگزینڈر وان ہمبولڈ فاؤنڈیشن کی جانب سے ہر سال ترقی پذیر ممالک کے ان محققین کو دیا جاتا ہے جن کے تحقیقی کام کے بین الاقوامی سطح پر اثرات مرتب ہوئے ہوں۔
اس ایوارڈ کے ساتھ محقق کو 60 ہزار یورو کی انعامی رقم بھی دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے تحقیقی مشن کو مزید آگے بڑھا سکیں۔
ڈاکٹر نوشین زیدی کی اس تاریخی کامیابی کے اعزاز میں اسلام آباد میں جرمن سفارت خانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن ارنو کرشوف نے لاہور کے این میری شیمل ہاؤس میں ایک پُروقار تقریب کی میزبانی کی۔
ڈاکٹر نوشین زیدی نے جرمنی کی یونیورسٹی آف ٹیوبنگن سے بائیو کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے اور وہ اس سے قبل البرٹ آئن اسٹائن کالج آف میڈیسن اور جانسن فارماسیوٹیکل جیسے معتبر اداروں میں بھی کام کرچکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سبزی فروش کے بیٹے سے اعزازی ڈپٹی کمشنر تک: فیضان رضا کی محنت رنگ لے آئی
ان کی تحقیق صرف لیبارٹری تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ ‘ایکشن ریسرچ کلیکٹو’ کے ذریعے ملک گیر سطح پر پانی کے معیار کی نقشہ سازی اور ‘روشن کلینک’ کے ذریعے بچوں کی نشوونما میں کمی (اسٹنٹنگ) جیسے اہم عوامی مسائل پر بھی گراس روٹ لیول پر کام کررہی ہیں۔
پاکستان میں جرمن سفیر اینا لیپل نے بھی سوشل میڈیا پر ڈاکٹر نوشین زیدی کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کی کامیابی کو سائنس کی دنیا کے لیے ایک بڑا لمحہ قرار دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نوشین زیدی کا کام جدید سائنسی تحقیق اور سماجی بہتری کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کررہا ہے، جو آنے والے وقت میں پاکستان میں صحتِ عامہ کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں لانے کا سبب بنے گا۔














