پاکستان کی نئی آٹو پالیسی، کیا عام پاکستانی کا گاڑی خریدنے کا خواب پورا ہو پائے گا؟

اتوار 26 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومتِ پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف کی مشاورت سے تیار کردہ نئی 5 سالہ آٹو پالیسی کیا ملک کے آٹو موٹو سیکٹر میں ایک بڑے انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے؟ اس پالیسی کے تحت ٹیرف کو 2030 تک 5.99 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

ماہرین اس حوالے سے تشویش کا اظہار کررہے ہیں، اور کہا جا رہا ہے کہ یہ پالیسی مقامی آٹو انڈسٹری کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتی ہے اور اس سے بھاری سرمایہ کاری اور ہزاروں ملازمتیں فراہم کرنے والی صنعت کو اگر سستی درآمدی گاڑیوں کے سامنے کھلا چھوڑ دیا گیا، تو ڈی انڈسٹریلائزیشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے جبکہ عام آدمی کے لیے اس سب میں شاید اب بھی کچھ نہیں رکھا۔

مزید پڑھیں: پنجاب کے سرکاری محکموں میں پیٹرول و ڈیزل گاڑیوں کی خریداری پر پابندی عائد

چھوٹی گاڑیوں پر بھی ریگولیٹری ڈیوٹی لگا دی گئی، محمد شہزاد

چئیرمین آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن حاجی محمد شہزاد نے وی نیوز کو بتایا کہ 5 برس کے لیے 40 فیصد امپورٹڈ گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھا دی گئی ہے جس میں ہر سال 10 فیصد کمی کی جائے گی، اگر کمی کرنی ہی تھی تو 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھائی ہی کیوں؟

محمد شہزاد کا کہنا ہے کہ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ چھوٹی گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی نہیں لگتی تھی، اب اس پر بھی لگا دی گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بڑی گاڑیوں پر پہلے ہی 90 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی تھی جو بڑھ کر 130 فیصد ہو چکی ہے، اس کے ساتھ پی آر یا گفٹ پر جو گاڑیاں آیا کرتی تھی وہ بھی بند کردی گئی ہیں، پھر بھی اگر کوئی گاڑی آتی ہے وہ ایک سال تک اسی کے نام پر رہے گی جس نے بھیجی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ریگولیٹری ڈیوٹی عموماً لگژری اشیا پر عائد کی جاتی ہے، تاہم چھوٹی گاڑیوں پر بھی 40 فیصد ڈیوٹی لگا دی گئی ہے، حالانکہ یہ گاڑیاں متوسط طبقے کے لیے ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں اسمبلڈ گاڑیاں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ماضی میں جاپانی گاڑیوں کے امپورٹرز نے خوب منافع کمایا، جبکہ اب پاکستان میں موجود کمپنیاں فائدہ اٹھائیں گی۔ ان کے مطابق کمرشل امپورٹ کی اجازت تو دے دی گئی ہے، لیکن اس کے ساتھ ایسی شرائط عائد کر دی گئی ہیں جن پر عمل کرنا قریباً ناممکن ہے۔

لوکلائزیشن کی کمی نے براہ راست پاکستان کے آٹو پارٹس بنانے والے شعبے کو متاثر کیا، مشہود علی

معروف آٹو ایکسپرٹ مشہود علی خان کا کہنا ہے کہ لوکلائزیشن کی کمی نے براہ راست پاکستان کے آٹو پارٹس بنانے والے شعبے کو متاثر کیا ہے، جس سے ترقی کے مواقع ضائع ہو رہے ہیں اور تکنیکی ترقی جمود کا شکار ہے۔

انہوں نے کہاکہ جب حکومت ایک نئی آٹو پالیسی تیار کررہی ہے تو ماضی کے نتائج اور ناکامیوں کا تنقیدی جائزہ لینا ضروری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آٹو پالیسی کو عملی اور حقیقت پسندانہ بنانے کے لیے درآمدات پر انحصار کرنے والے ماڈل کی حوصلہ شکنی کی جائے اور ہیوی سب اسمبلی ماڈل کو ختم کیا جائے۔

ان کے مطابق تمام نئے آنے والے OEMs کو پابند کیا جائے کہ وہ 2 سال کے اندر گاڑیوں میں کم از کم 30 فیصد پرزوں کی مقامی تیاری یقینی بنائیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ اور نئے اداروں کے درمیان کسی قسم کا امتیازی سلوک نہ ہو اور تمام کمپنیوں پر ایک ہی آٹو پالیسی یکساں طور پر نافذ کی جائے تاکہ مسابقت بڑھے اور صنعتی ترقی کو فروغ ملے۔

مراعات کو حقیقی ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی پرزہ جات کی پیداوار سے مشروط کیا جائے

ان کا کہنا تھا کہ مراعات کو حقیقی ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی پرزہ جات کی پیداوار سے مشروط کیا جائے، جبکہ پالیسی میں کسی قسم کا ابہام یا خلا نہ رکھا جائے اور مستقبل کے لائحہ عمل کو واضح انداز میں بیان کیا جائے۔

مزید پڑھیں: گاڑیوں کی خریداری کے لیے بینکوں کی جانب سے قرضوں کے اجرا میں کمی

مشہود علی خان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان مقامی مینوفیکچرنگ کو مضبوط نہیں کرتا، تو وہ درآمدات کے لیے قرض لینے کے چکر میں پھنسا رہے گا۔

ان کی نظر میں پاکستان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ ایک اسمبلی اکانومی بننا چاہتا ہے یا مینوفیکچرنگ اکانومی، موجودہ راستہ ترقی اور استحکام کو برقرار نہیں رکھ سکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp