ڈپلومیسی میں ایک اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، کون پہلے پلک جھپکے گا (ہُو وِل بلنک فرسٹ)، مطلب اس کا یہی ہے کہ جب بہت ہی ٹف مذاکرات چل رہے ہوں، اعصاب کی جنگ ہو تو سوال یہی اٹھتا ہے کہ کون پیچھے ہٹتا، اپنے مؤقف میں نرمی لاتا اور سمجھوتے کو یقینی بناتا ہے۔
سوال اب یہی ہے کہ امریکا یا ایران؟ کون اپنے موقف میں قدرے نرمی یا لچک لا کر مذاکرات کو کامیاب بناتا اورڈیل کو یقینی بناتا ہے۔
پہلے امریکا کا جائزہ لیتے ہیں:
امریکا کو ابتدا میں ایران کی مزاحمت ختم کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔ بے شمار حملے اور شدید ترین بمباری کی گئی، ایرانی صف اول، دوم کی قیادت نشانہ بن گئی، مگر متبادل قیادت میں زیادہ سخت، زیادہ بے لچک لوگ اوپر آگئے۔
آبنائے ہرمز کھلوانے میں امریکا کو ناکامی ہوئی، وہ تنہا بھی رہ گیا۔ یورپ اس کی مدد کے لیے نہیں آیا بلکہ اہم یورپی ممالک جیسے برطانیہ، فرانس، اٹلی، اسپین وغیرہ نے صاف انکار کر دیا گیا۔ یوں امریکا کی دنیا کی سب سے بڑی سپرپاور ہونے کا جو امپیکٹ تھا، وہ بری طرح ڈیمیج ہوا۔ ایک وقت میں یہ لگ رہا تھا کہ صدر ٹرمپ بھی پچھتا رہے ہیں، انہیں یہ احساس ہوگیا کہ وہ غیر ضروری طور پر اس جنگ میں پھنس گئے اور اب وہ نکلنا چاہ رہے ہیں۔ امریکی مذاکراتی کمیٹی کے قائد کے طور پر نائب صدر کو بھیجنا اس بات کو ظاہر کر رہا تھا کہ امریکا مذاکرات میں سیریس ہے۔
امریکی مطالبات البتہ سخت اور بے لچک رہے ہیں، ان میں زیادہ گنجائش نہیں دی گئی۔ صدر ٹرمپ کا رویہ اس حوالے سے ٹف بارگین والا رہا ہے۔ خاص کر ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے حوالے سے امریکا معمولی سی رعایت بھی دینے کو تیار نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ایرانی یورینیئم انرچمنٹ زیرو کی سطح پر چلی جائے، جو یورینیئم اب تک افزودہ ہوچکی ہے، وہ سب ایران امریکا کے حوالے کر دے اور اگلے 20 سال تک کی کمٹمنٹ کرے کہ وہ نیوکلیئر ہتھیار ہرگز نہیں بنائے گا۔ امریکی یہ بھی چاہتے ہیں کہ ایرانی میزائل پروگرام بھی محدود ہو جائے اور ایران اپنی پراکسیز خاص کر لبنان کے حزب اللہ اور یمن کے حوثیوں کی فنڈنگ بھی بند کر دے۔
اس وقت پوزیشن یہ ہے کہ امریکا نے ابتدائی راونڈز میں اپنے اہداف حاصل نہیں کیے، البتہ عسکری اعتبار سے ایک چال اس کی کامیاب ہوئی ہے کہ اس نے ایران کی بحری ناکہ بندی کر دی اور اس وقت ایران کی تیل کی برآمد صفر تک پہنچ چکی ہے۔ صدر ٹرمپ کے بقول ایران کا پچاس کروڑ ڈالر روزانہ کا نقصان ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اصل خطرہ یہ ہے کہ تیل کے کنوؤں سے تو تیل مسلسل نکل رہا ہے، ان کی اسٹوریج کی بھی ایک لمٹ ہے اور ایران میں وہ حد تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ ایران کو بہت جلد ، شاید اگلے 2-4 دنوں میں اپنے تیل کے کنوئیں بند کرنے پڑیں گے ، اس سے نقصان مزید بڑھ جائے گا کیونکہ تیل کے کنوئیں دوبارہ چلانے پر خاصا خرچ اٹھتا ہے۔
اہم عالمی تجزیہ کار اس نکتہ پر منقسم ہیں، اکثر کا خیال ہے کہ امریکا نے ایران کی معاشی شہ رگ دبا دی ہے اور مسلسل نقصان ایران کو مذاکرات کی ٹیبل پر لے آئے گا، اس کے پاس آپشنز محدود ہوگئے ہیں۔ تاہم بعض اہم مغربی میڈیا ہاؤسز اور تجزیہ کاروں کے خیال میں اس سے تصادم کا امکان بھی بڑھ گیا ہے کیونکہ ایران پر دباؤ زیادہ بڑھ جائے گا تو وہ سرنڈر کے بجائے بھرپور تصادم کی طرف بھی جا سکتا ہے۔
ایران کہاں کھڑا ہے؟
ایران کا ترپ کا پتہ آبنائے ہرمز بند کرنا رہا، وہ کامیابی سے کھیلا گیا، دنیا بھر میں پریشانی پیدا ہوئی، آئل کی سپلائی لائن میں فرق پڑا اور امریکا جب آبنائے ہرمز کھلوانے میں ناکام رہا تو یہ ایران کی کامیابی گنی گئی۔
ایران کے لیے اصل مسئلہ تب بنا جب وہ مذاکرات کی ٹیبل پر آ گیا تھا، پاکستان کی مدد سے ایک باعزت صورت نکل آئی۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے سرتوڑ کوشش کر کے پاسداران کمانڈروں کو قائل کیا، سیاسی قیادت کو بھی اور یوں ایران نے آبنائے ہرمذ کھول دی، جواب میں امریکا نے لبنان میں جنگ بندی کرا دی۔ یہاں تک معاملہ ایران کے حق میں تھا۔
دوبارہ آبنائے ہرمز بند کرنا ایران کی اچھی چال نہیں تھا۔ اس کا اسے نقصان ہوا۔ وہ مذاکرات سے پیچھے ہٹا تو دنیا بھر میں منفی تاثر گیا۔ جنگ بندی میں توسیع ہونا بھی اگرچہ ایران کے لیے فائدہ مند ہے مگر اس کا زیادہ ایڈوانٹیج امریکا لے گیا۔
امریکی دنیا کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہے ہیں کہ وہ تو اب یہ بحران ختم کرنا چاہ رہے ہیں مگر ایران ایسا نہیں کررہا۔ اس کے ساتھ ساتھ دنیا میں یہ تاثر بھی مستحکم ہوا کہ ایرانی قیادت منقسم ہے اور اصل فیصلے پاسداران کے سخت گیر، بے لچک (اور شاید کسی حد تک لوویژن والے )کمانڈر کر رہے ہیں جنہیں عالمی امور کی سمجھ بوجھ نہیں اور وہ ایران کو مکمل تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔
ایران کی بحری ناکہ بندی جاری ہے، مگر چونکہ امریکا اس پر حملے نہیں کر رہا، اس لیے ایران کے پاس اب جوابی حملے کرنے کا بھی زیادہ جواز نہیں بچا۔ اس بار عرب ریاستوں میں موجود امریکی بیسز سے ایران پر کوئی حملہ نہیں ہور ہا تو اب ایران کس منہ سے خلیجی عرب ممالک پر حملے کرے؟
بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ ایرانی اس بار ٹریپ ہو گئے ہیں، ان کے پاس بہترین آپشن یہ تھی کہ وہ مذاکرات کے راونڈز جاری رکھتے، پیچھے نہ ہٹتے، ایرانی پاسداران اپنی سول سیاسی قیادت کو کارنر نہ کرتے اور آبنائے ہرمز کھلی رکھتے تو آخر کار امریکا پر دباؤ آجاتا۔
ایرانی اگر یکایک ہرمز دوبارہ سے بند کرنے کے بجائے عالمی سفارت کاری کرتے، دنیا کو بتاتے کہ ہم نے تو ہرمز کھول دیا ہے، جنگ بھی نہیں کر رہے تو اب امریکی بحری ناکہ بندی کیوں کر رہے ہیں؟ اگر ایران 2 یا 3 دن کی مہلت دیتا کہ ہم آبنائے ہرمز اوپن رکھے ہوئے ہیں، لیکن اگر اگلے 3 دنوں میں بحری ناکہ بندی ختم نہ ہوئی تو ہم دوبارہ سے ہرمز بند کر دیں گے۔ تب امریکا پر دباؤ آتا کہ وہ معاملات نہ بگاڑے۔ افسوس کہ پاسداران کے کمانڈروں کی عجلت اور غیر ضروری جارحانہ پالیسی نے ایران کو نقصان پہنچایا۔
اب کیا ہونا چاہیے؟
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ امریکا اور ایران کے باضابطہ مذاکرات شروع نہیں ہو رہے۔ ایرانی وزیرخارجہ پاکستان آئے تو امید بندھی، وائٹ ہاوس نے کنفرم بھی کیا کہ صدر ٹرمپ کے نمائندے وٹکوف اور جیرڈ کشنر پاکستان آ رہے ہیں۔ پھر خبر آئی کہ ایرانی وزیر خارجہ پاکستان نہیں رک رہے، وہ یہاں ملاقاتوں کے بعد مسقط اور ماسکو جائیں گے۔ ایرانیوں کی جانب سے شاید مذاکرات نہ کرنے کے عندیہ کے بعد ہی اچانک صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں نے وٹکوف اور کشنر کو پاکستان جانے سے روک دیا ہے کہ اتنا طویل سفر کر کے نہ جاؤ ، ایرانی اگر بات کرنا چاہتے ہیں تو وہ مجھے فون کر سکتے ہیں۔
یوں ڈیڈ لاک ایک بار پھر پیدا ہوگیا ہے، ویسے کچھ نہ کچھ بات چل تو رہی ہوگی مگر پس پردہ۔ اگر باضابطہ مذاکرات کا دوسرا راونڈ شروع ہوجاتا تو شاید بات آگے بڑھتی۔ بہرحال اب ایک بار پھر بے یقینی پیدا ہوگئی ہے۔
ایران کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کا اب حل نکالے، تھوڑا سا پیچھے ہٹ جانے میں کوئی قباحت نہیں۔ اس لیے کہ اگر جنگ بندی مستقل ہو جائے، یہ بحران ٹل جائے تو ایران ایک طرح سے فاتح ہی قرار پائے گا۔ ایران کے نیوکلیئر پروگرام ختم ہونے کا ایران کو نفسیاتی نقصان یوں نہیں کہ ان کے بقول وہ تو پہلے ہی ایٹم بم نہیں بنانا چاہ رہے تو پھر یہ کوئی ایشو نہیں۔
ویسے بھی پُر امن توانائی پروگرام کے لیے ساٹھ فیصد یورینیئم کی قطعی ضرورت نہیں، 10 فیصد تک افزودگی کافی ہے۔ اگر ایران افزودہ یورینئیم کسی تیسرے ملک کو دے دے تب بھی یہ اس کی شکست نہیں۔ ایک بار ایران اس بحران سے نکل جائے تو آنے والوں برسوں میں کئی اور آپشنز نکل آتی ہیں، ٹرمپ کے دور کو نکال جائیں توممکن ہے آئندہ ایسی مشکل نہ بنے۔ ہر امریکی صدر ٹرمپ جیسا جلد باز، جنونی اور اسرائیل کا کاسہ لیس بھی نہیں ہوتا کہ اندھا دھند حملہ کر دے۔
ایران کو وقت لینا چاہیے، ڈپلومیسی کی اصطلاح میں وقت خریدنا۔ ان کے کمانڈ اسٹرکچر، عسکری صلاحیت اور انفراسٹرکچر کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ اسے وقت چاہیے، پابندیوں میں نرمی اور منجمد شدہ پیسوں کی واپسی تاکہ چیزیں بہتر ہوسکیں۔ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو ایران کے لیے مشکلات بڑھتی جائیں گی۔
ایران کے پاس ایک اور آپشن موجود تو ہے مگر وہ خودکش حملے جیسا ہے جس میں حملہ آور نہیں بچ پاتا۔ وہ آبنائے ہرمز میں بے شمار بارودی سرنگیں بچھا کر راستہ مستقل طور پر بند کر سکتا ہے، اپنے تمام میزائل ڈرون وغیرہ مخالفوں پر پھینک کر بحران پیدا کر سکتا ہے، مگر جواب میں ایران خود بھی تباہ و برباد ہوجائے گا۔ اگر خارگ جزیرے کو تباہ و برباد کر دیا جائے، ایران کے پاور اسٹیشن، ڈیمز، پل وغیرہ تباہ ہوگئے تو ایران معاشی طور پر تباہ ہو جائے گا۔ اگلے 15-20 سال تک وہ پھر سانس لینے کے بھی قابل نہیں رہے گا۔ یہ اعصاب کی جنگ ہے، ایرانیوں کو چاہیے کہ باعزت سمجھوتے کا چند فیصد امکان بھی ہے تو اسے استعمال کریں۔ بلاجواز ضد کا مظاہرہ کیا گیا تو بہت زیادہ نقصان ہوسکتا ہے۔
دوسری طرف امریکا کو بھی چاہیے کہ وہ بحران ختم کرے، ایران کو کچھ سپیس تو دے تاکہ وہ اس سمجھوتے پر اپنے عوام کو بھی مطمئن کر سکیں۔
پاکستان کا غیر معمولی کردار
پاکستان کا کردار بہت اہم، نمایاں اور مثبت رہا ہے۔ پاکستانی قیادت نے خود کو منوایا ہے۔ وہ اہم اور قابل اعتماد سفارتی پلیئر بن کر ابھرے ہیں۔ خاص کر فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے کمال تدبر اور مستقل مزاجی کے ساتھ مسئلے کے حل نکالنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو نہ سراہنا بھی زیادتی ہوگی۔ حل جو بھی نکلے، پاکستان نے اپنی سی سرتوڑ کوشش کی ہے۔ یہ قابل تعریف امر ہے۔
ایران پر پابندیاں ختم ہوں تو پاکستان کے لیے بھی بہتر معاشی آپشنز پیدا ہوں گے، اس وقت مگر ہم اپنے فائدے کے لیے نہیں بلکہ اپنے ایرانی بھائیوں کے لیے سوچ رہے ہیں اور پورے خطے کی سلامتی ترجیح ہے۔اصولی طور پر یہی کرنا چاہیے ۔
پاکستان اس وقت تاریخ کی درست سمت اور درست جگہ پر موجود ہے۔ ہم برسوں سے اپنی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے رہے ہیں، مگر جب درست اور اچھا کیا جارہا تو اس کی تعریف بھی بنتی ہے۔
اللہ خیر فرمائے اور جنگ بندی مستقل ہو جائے، ایران بھی بحران سے نکل آئے اور اس خطے سے امریکی فوجی موجودگی بھی کم ہوجائے، آمین۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












