حکومت پاکستان نے صومالی قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی یرغمالیوں کی بحفاظت رہائی کے لیے فوری سفارتی اور ادارہ جاتی اقدامات شروع کر دیے ہیں، جبکہ متعلقہ اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر رابطہ کاری کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
وفاقی وزیر جنید انور چوہدری نے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے اور پاکستان نیوی، دفتر خارجہ اور دیگر متعلقہ ادارے متحرک کر دیے گئے ہیں۔ حکومت نے صومالیہ کے ساتھ سفارتی رابطے بھی قائم کر لیے ہیں تاکہ یرغمالیوں کی جلد اور محفوظ واپسی ممکن بنائی جا سکے۔
مزید پڑھیں:جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد، غزہ میں موجود آخری اسرائیلی یرغمالی کی لاش برآمد
یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب 21 اپریل 2026 کو خلیج عدن میں باب المندب کے قریب بحری قزاقوں نے “آنر 25” نامی آئل ٹینکر پر قبضہ کر لیا۔ جہاز صومالیہ کے شمال مشرقی ساحل کے قریب سفر کر رہا تھا اور اس میں عملے کے متعدد ارکان سوار تھے جن میں 11 پاکستانی شہری بھی شامل ہیں، جبکہ کپتان انڈونیشیا سے تعلق رکھتا ہے۔
واقعے کے بعد مغوی پاکستانیوں کے اہلخانہ شدید پریشانی میں مبتلا ہیں اور انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ان کے پیاروں کی فوری بازیابی کے لیے اقدامات تیز کیے جائیں۔ گورنر سندھ نہال ہاشمی نے بھی ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ عرصے میں خطے میں سیکیورٹی توجہ دیگر تنازعات کی طرف منتقل ہونے کے باعث صومالی قزاقی کی سرگرمیوں میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے۔ اس سے قبل 2024 میں بھی ایک بنگلہ دیشی جہاز کو اسی نوعیت کے واقعے میں یرغمال بنایا گیا تھا جسے بعد ازاں تاوان کے بعد چھوڑ دیا گیا۔
مزید پڑھیں:آئل ٹینکر پر قزاقوں کا قبضہ، یرغمال عملے میں 11 پاکستانی بھی شامل













