صومالیہ کے ساحل کے قریب بحری قزاقوں نے ایک آئل ٹینکر کو ہائی جیک کر کے عملے کو یرغمال بنا لیا ہے جس میں 11 پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز ایک بار پھر بند، ایران کا امریکا پر ’سمندری قزاقی‘ کا الزام، کشیدگی بڑھ گئی، 2 تجارتی جہازوں پر فائرنگ
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 21 اپریل کو اس وقت پیش آیا جب مسلح بحری قزاقوں نے بین الاقوامی سمندری حدود میں ٹینکر کو روک کر اس پر قبضہ کر لیا۔
حملے کے بعد سے جہاز اور اس کے عملے سے کسی قسم کا رابطہ قائم نہیں ہو سکا۔
رپورٹس کے مطابق جہاز کی ذمے دار شپنگ کمپنی نے بھی اب تک خاموشی اختیار کر رکھی ہے، جس سے عملے کے اہلِ خانہ کی تشویش میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب پاکستانی حکام نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے یرغمال بنائے گئے عملے کی بحفاظت بازیابی کے لیے ریسکیو اور سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
مزید پڑھیے: پاکستان کا صومالیہ کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ
وزارتِ بحری امور کے اعلامیے کے مطابق تمام متعلقہ ادارے مسلسل رابطے میں ہیں اور صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری نے واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ریسکیو آپریشن مزید مؤثر بنانے کی ہدایت دی ہے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ وزارتِ بحری امور نے وزارتِ خارجہ سے فوری سفارتی رابطوں کی درخواست بھی کی ہے جبکہ پاکستانی عملے کی رہائی کے لیے صومالیہ حکام سے بھی رابطے کی کوششیں جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: صومالیہ، انتہا پسند الشباب کا ساحل پر حملہ، 32 افراد ہلاک
دوسری جانب اہلخانہ نے اپنے پیاروں کی سلامتی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ان کی جلد اور محفوظ واپسی کو یقینی بنایا جائے۔ صورتحال تاحال کشیدہ ہے اور ریسکیو کوششیں جاری ہیں۔














