سابق رکن قومی اسمبلی شیرافضل مروت نے سہیل آفریدی کے بطور وزیراعلیٰ انتخاب کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس نامزدگی کے عمل میں قانونی پیچیدگیاں موجود ہیں، جنہیں عدالت کے سامنے اٹھایا جائے گا۔
شیرافضل مروت کا کہنا تھا کہ وہ سہیل آفریدی کی نامزدگی کو باقاعدہ طور پر عدالت میں چیلنج کریں گے کیونکہ ان کے مطابق یہ فیصلہ درست نہیں تھا۔ انہوں نے اس حوالے سے ماضی کے ایک اہم عدالتی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی قرار دے چکی ہے کہ سزا یافتہ شخص جیل سے کسی قسم کے احکامات جاری نہیں کر سکتا۔
یہ بھی پڑھیے ریاستی اداروں کے خلاف گمراہ کن مواد پھیلانے کا الزام، سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
انہوں نے 2018 کے ایک مقدمے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت عمران خان نے نواز شریف کی جانب سے سینیٹ ٹکٹوں کی تقسیم کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا، جس پر سپریم کورٹ نے مذکورہ اصول طے کیا۔ شیرافضل مروت کے مطابق اسی تناظر میں حالیہ نامزدگی بھی قانونی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ عمران خان کی ہدایت پر سلمان اکرم راجا نے اڈیالہ جیل کے باہر نامزدگی کا اعلان کیا تھا، جسے وہ عدالت میں چیلنج کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے مجھے نااہل کرانے کی کوششیں ہو رہی ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا دعویٰ
شیرافضل مروت نے واضح کیا کہ سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ کے منصب پر لانے کا فیصلہ درست نہیں تھا اور وہ اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔













