پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز اتار چڑھاؤ سے بھرپور کاروباری دن ریکارڈ کیا گیا، جہاں اختتام کے قریب فروخت کا دباؤ غالب رہا۔
بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس غیر یقینی آغاز کے ساتھ کھلا اور انٹرا ڈے کم ترین سطح 169,268.33 پوائنٹس تک گر گیا۔
کاروباری سیشن کے دوران انڈیکس بتدریج نیچے کی جانب گامزن رہا، اگرچہ وقفے وقفے سے معمولی بہتری بھی دیکھی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد مذاکرات کی غیر یقینی صورتحال، اسٹاک ایکسچینج میں مندی، انڈیکس 1576 پوائنٹس گر گیا
یہ عارضی بحالی منتخب خریداری یا ویلیو ہنٹنگ کی نشاندہی کرتی ہے، تاہم مجموعی طور پر فروخت کے دباؤ نے ان کوششوں کو دبائے رکھا۔
سیشن کے دوسرے حصے میں مارکیٹ نے ہلکی سی بحالی کی کوشش کی اور دوپہر کے وسط میں کچھ بہتری بھی نظر آئی، لیکن کاروبار کے اختتام سے قبل اچانک تیز فروخت نے دوبارہ مارکیٹ کو نیچے دھکیل دیا۔
Market Close Update: Negative Today! 👇
🇵🇰 KSE 100 ended negative by -1,174.7 points (-0.69%) and closed at 169,497.4 with trade volume of 357.3 million shares and value at Rs. 24.19 billion. Today's index low was 169,268 and high was 171,307. pic.twitter.com/K1cp1sJRcO— Investify Pakistan (@investifypk) April 27, 2026
اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,174.69 پوائنٹس یعنی 0.69 فیصد کمی کے ساتھ 169,497.35 پوائنٹس پر بند ہوا۔
ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کا رجحان محتاط ہے کیونکہ وہ ہفتے کے آخر میں آنے والی اہم سفارتی اور معاشی خبروں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ایک اہم پیش رفت میں اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 11.5 فیصد کر دیا۔
مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ دباؤ کا شکار رہی، جس کی بڑی وجوہات میں امریکا -ایران جنگ بندی مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال سر فہرست تھی۔
اس کے علاوہ عالمی سطح پر تیل کی بلند قیمتیں، آئی ایم ایف سے منسلک پالیسی خدشات اور ملک میں توانائی کی قلت جیسے عوامل نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا۔
کے ایس ای 100 انڈیکس ہفتہ وار بنیاد پر 3,266.98 پوائنٹس یعنی 1.9 فیصد کمی کے ساتھ 170,672.04 پوائنٹس پر بند ہوا۔

بین الاقوامی سطح پر پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، کیونکہ امریکا-ایران امن مذاکرات میں تعطل کے باعث مشرق وسطیٰ سے توانائی کی برآمدات متاثر رہیں۔
برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 2 فیصد بڑھ کر 107.97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو 3 ہفتوں کی بلند ترین سطح ہے۔
اس اضافے نے مہنگائی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے اور ترقی یافتہ معیشتوں میں شرح سود میں کمی کی توقعات کو کمزور کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں: عالمی معیشت میں بہتری: اسٹاک مارکیٹ اور سونے چاندی میں سرمایہ کاری کب کی جائے؟
ایشیائی سیشن میں ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں ہلکے اتار چڑھاؤ کے بعد تقریباً 0.2 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ تائیوان، ٹوکیو اور سیول کی مارکیٹس نے مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کے رجحان کے باعث ریکارڈ سطحیں حاصل کیں۔
کرنسی مارکیٹ نسبتاً مستحکم رہی، جہاں یورو 1.1724 ڈالر اور ین 159.32 فی ڈالر پر ٹریڈ ہوا۔
بانڈ مارکیٹس جاپان، امریکا، برطانیہ، یورپ اور کینیڈا سمیت مختلف ممالک کے مرکزی بینکوں کے اجلاسوں سے قبل پرسکون رہیں۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران جنگ بند کروا کر پاکستان نے عالمی معیشت کو کتنا فائدہ پہنچایا؟
اگرچہ 2 ماہ قبل امریکا-اسرائیل حملوں کے بعد ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ میں جنگ بندی کے باعث لڑائی زیادہ تر رک چکی ہے۔
تاہم مارکیٹوں کی توجہ آبنائے ہرمز پر مرکوز ہے، جہاں تیل اور گیس لے جانے والے جہازوں کی آمدورفت تقریباً معطل ہے۔














