امریکا ایران جنگ بند کروا کر پاکستان نے عالمی معیشت کو کتنا فائدہ پہنچایا؟

جمعرات 23 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد ایک عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا، جس میں پاکستان کے کردار کو ایک اہم ثالث اور استحکام فراہم کرنے والی قوت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس جنگ بندی کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی مارکیٹوں پر واضح طور پر محسوس کیے گئے۔

معاشی ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز جیسا اہم تجارتی راستہ طویل عرصے تک بند رہتا تو دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی متاثر ہو سکتی تھی۔ اس صورتحال میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 120 سے 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے۔

توانائی بحران کے خوف نے نہ صرف عالمی سپلائی چین کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ امریکا سمیت کئی ممالک میں مہنگائی اور ممکنہ کساد بازاری (ریسیشن) کے خدشات بھی بڑھا دیے تھے۔

یہ بھی پڑھیے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور سے متعلق اچھی خبر جمعے تک سامنے آسکتی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا ایران جنگ کے باعث امریکی ڈالر پر بھی دباؤ بڑھنے لگا تھا اور طویل جنگ کے خدشات کے پیشِ نظر سرمایہ کاروں نے محفوظ اثاثوں کی طرف رجحان بڑھایا۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ ڈالر کی عالمی اجارہ داری پر بھی سوالات اٹھنے لگے۔

امریکی محکمہ تجارت کے مطابق مارچ 2026 میں ریٹیل سیلز میں 1.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو تین برس میں سب سے زیادہ ماہانہ اضافہ ہے۔ اس اضافے کی بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ قرار دیا گیا، تاہم جنگ بندی کے بعد یہ معاملہ بھی رک گیا۔

آبنائے ہرمز کی بندش سے مختلف ممالک کو معاشی نقصان پہنچا۔ چین جیسے بڑے تیل خریدار ممالک کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ سے تیل کی خریداری میں بتدریج مقامی کرنسیوں کے استعمال کو ترجیح دے رہے ہیں، جو عالمی مالیاتی نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔

اس مہنگائی کا اثر صرف ایندھن تک محدود نہیں رہا بلکہ خوراک، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جس سے عام صارف کی قوتِ خرید متاثر ہوئی۔

اسی طرح پراپرٹی مارکیٹ بھی متاثر ہوئی۔ مختلف ممالک میں شرحِ سود میں اضافے اور مہنگائی کے دباؤ کے باعث رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں سست روی آئی، جبکہ کچھ محفوظ مارکیٹس میں قیمتیں غیر مستحکم رہیں۔ تاہم جنگ بندی کے بعد پراپرٹی مارکیٹ کو کسی حد تک سہارا ملا۔

رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف اور عالمی بینک نے خبردار کیا تھا کہ اگر خطے میں کشیدگی طویل ہو جاتی تو 2026 کے اختتام تک دنیا ایک بڑی معاشی سست روی یا مندی کی طرف جا سکتی تھی۔ بحران کے وقت ڈالر کی طلب بطور ’محفوظ کرنسی‘ بڑھ سکتی ہے، جس سے اس کی قدر میں غیر متوقع استحکام یا اضافہ بھی ممکن ہوتا ہے، تاہم جنگ بندی کے باعث یہ خطرہ بھی ٹل گیا۔

7 اپریل کے مبینہ جنگ بندی اعلان کے بعد عالمی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی دیکھی گئی۔ رپورٹس کے مطابق عالمی اسٹاک مارکیٹس میں تقریباً 2.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔ جنگ بندی کے بعد مجموعی طور پر ہزاروں ارب ڈالر کی مارکیٹ ویلیو بحال ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ یہ تیزی اس اعتماد کی عکاسی کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے سے عالمی معیشت پر دباؤ کم ہوا ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش یا اس کے خطرے نے نہ صرف تیل کی قیمتوں کو متاثر کیا بلکہ عالمی لاجسٹکس اور ایئر ٹریفک کو بھی بری طرح متاثر کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 40 روزہ جنگ کے دوران دنیا بھر سے مشرق وسطیٰ کی ایک لاکھ 30 ہزار پروازیں منسوخ، معطل یا شیڈول سے ہٹا دی گئیں۔ صرف پاکستان سے ہی 3,000 سے زائد پروازیں متاثر ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ فضائی راستوں کی بندش کے باعث ایئرلائنز کو شدید مالی نقصان اور مسافروں کو سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اب صورتحال میں بہتری آ رہی ہے۔ جیٹ فیول مہنگا ہونے کے باعث کرایوں میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا تھا، جو اب کم ہونا شروع ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے امریکا ایران جنگ سے مختلف ممالک میں پیٹرول کی قیمتوں پر کیا اثر پڑا؟

ذرائع کے مطابق جیٹ فیول کی قیمت 85 سے 90 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 150 سے 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، جس کے باعث ایئرلائنز کو اپنے آپریشنز محدود کرنا پڑے اور خلیجی ممالک کے لیے کئی پروازیں معطل ہوئیں، جبکہ فضائی نیٹ ورک شدید دباؤ کا شکار رہا۔

اس ساری پیش رفت کو عالمی میڈیا اور مختلف معاشی تجزیہ کار مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی عالمی معیشت کے لیے فوری ریلیف کا باعث بنتی ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں استحکام، اسٹاک مارکیٹس میں بہتری اور سپلائی چین کی بحالی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جغرافیائی سیاسی استحکام براہِ راست عالمی معاشی ترقی سے جڑا ہوا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے خلاف ممکنہ جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 3 ہفتوں کی توسیع، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکا نے اپنا بحری بیڑا ’جارج بش‘ بحیرہ ہند میں اتار دیا

بنگلہ دیشی بارڈر گارڈز کی اسمگلنگ کے خلاف بڑی کارروائی، 84 لاکھ ٹکا مالیت کی بھارتی ساڑیاں برآمد

سکھ رہنماؤں کو بھارتی دھمکیاں، سکھ فار جسٹس نے بھارتی سفارتکار کی مبینہ آڈیو لیک کردی

ویڈیو

سعودی عرب سے 3 بلین ڈالرز ملنے پر پاکستانی کیا کہتے ہیں؟

خیبر پختونخوا: دہشتگردی کے واقعات میں کمی، پشاور کے شہری کیا کہتے ہیں؟

پہلگام حملہ: کیا یہ خود ساختہ منصوبہ تھا؟

کالم / تجزیہ

عالمی دن پر کتاب سے مکالمہ

جنگ اور جنگ بندی کے مابین مرتب کیے 9 نتائج

لاہور پر ’مغل اعظم‘ کی یلغار