محمود اچکزئی صاحب، لطف آ رہا ہے؟

منگل 28 اپریل 2026
author image

آصف محمود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

محمود اچکزئی صاحب بھلے آدمی ہیں، ڈھلتی عمر میں مگر وہ عشق عمران کے پیادوں میں شامل ہو گئے۔ باقی کہانی ہے۔ بلکہ کہانی کیا ہے، نری  رائیگانی ہی ہے۔ اب انہیں دیکھتا ہوں تو ترس بھی نہیں آتا، وہ اس حال کو پہنچے ہیں تو اپنے شوق سے پہنچے ہیں۔ یہ ان کا اپنا انتخاب تھا۔ یہ ان کے اپنے چاؤ تھے جو اترنے کا وقت قریب آ رہا  ہے۔ پنجابی میں کہتے ہیں کہ شوق دیاں چڑائیاں نیں، چھنڑکیندی وت۔ ( یعنی یہ چوڑیاں تم نے اپنے شوق سے پہنی تھیں اب انہیں کھنکھناتی پھرو) ۔

اچکزئی صاحب  قومی سیاستدان نہیں، قوم پرست سیاست دان ہیں ۔ ایک صوبے کے چند اضلاع تک محدود۔ سیاست بھی ایک تنگنائے میں قید ہے۔ اسلوب و متن بھی وہی جو کسی قوم پرست کا ہو سکتا ہے۔  محدود دائرے کا اسیر، کبھی اردو پر گرہ لگا دی، کبھی اداروں پر۔ وہی رد عمل کی ایک خاص کیفیت ان پر سوار رہتی جو قومیت ا ور لسانیت کی سیاست کا انتخابی نشان ہے۔  لیکن سارے اختلافات کے باوجود ان کی عزت قومی سیاست دان کی طرح  ہی کی جاتی تھی۔ کسی کو ان سے اختلاف تھا بھی تو وضع داری اور آنکھ کی حیا غالب رہی۔ وہ ن لیگ اور یپلز پارٹی کے ساتھ چلے بھی اور راہیں جدا بھی کیں لیکن ہر دو صورتوں میں ان کا احترام قائم رہا۔ مجال ہے جو کسی جماعت کے کسی کارکن نے احترام سے گرا کوئی فقرہ ان کی جانب اچھالا ہو۔

یہ بھی پڑھیں: مذاکرات میں پاکستان اتنی دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟

سیاست کے اس طویل سفر میں، سر مجلس ان کی توہین صرف عمران خان نے کی،  بھونڈے پن سے ان کی چادر کی نقل اتاری، ان پر فقرے کسے۔ پھر وقت بدلا تو قاافلہ انقلاب نے اڈیالہ سے ایسا یوٹرن لیا کہ سامنے محمود اچکزئی کھڑے تھے۔ اب انہیں قائد حزب اختلاف کہا جاتا ہے۔ یہ منصب انہیں تحریک انصاف نے عطا کیا اور اچکزئی صاحب نے بھی شاید سوچا ہو کہ یہ موقع بھی جانے دیا تو مجھے کون عقلمند کہے گا۔ قومی اسملی میں اچکزئی صاحب کی صرف ایک نشست تھی، جس کا نصف بھی نصف ہی ہوتا ہے لیکن سیاست میں داؤ لگتا نظر آیا تو صاحب نے لگا لیا۔ بالکل ایسے ہی جیسے نواز شریف کے حلیف تھے تو ایسے ہی داؤ لگتا نظر آیا تو اپنے ہی بھائی کو گورنر بنوا لیا کہ سند رہے اور جمہوریت دوستی میں کام آئے۔

اچکزئی صاحب کو یقیناً معلوم ہو گا کہ مبلغ ایک نشست کے ساتھ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا عہدہ ملا نصیر الدین کے لطیفے جیسا بھی ہو سکتا ہے۔ یہ منصب تحریک انصاف کی عطا تھی۔ کوئی تو عہد و پیما ہوئے ہوں گے۔ ورنہ ایک نشست والے کو کون یہ عہدہ دیتا ہے۔ کوئی تو تحریک انصاف کی توقعات ہوں گے، اس منصب کے ساتھ کچھ فرائض منصبی تو طے ہوئے ہوں گے، کپتان صاحب تو گھر آئے لوگوں کو چائے نہیں پلاتے تھے وہ بلاوجہ کسی کو قائد حزب اختلاف کیوں بنائیں گے؟

مزید پڑھیے: اسرائیل کا مسئلہ کیا ہے؟

اچکزئی صاحب جہاں دیدہ سیاست دان ہیں۔ اتنا تو وہ جانتے ہی تھے کہ  یہ قافلہ انقلاب  اپنی اور دوسروں کی عزت سے یکسر درجے میں بے نیاز ہے۔ یہی دشنام آمیز اسلوب اس جماعت کا تعارف بن چکا ہے۔ اس کے باوجود وہ بھاگ کر قائد حزب اختلاف بن بیٹھے۔ اب یہ ظاہر ہے کہ ایک مکمل پیکج تھا۔ جو پارٹی اپنے اتنے لوگوں کو چھوڑ کر صرف ایک نشست والے کو اتنا بڑا عہدہ دے دے اس پارٹی کی کچھ توقعات تو ہوں گی۔ اب اگر یہ توقعات پوری نہیں ہوئیں اور تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کے نونہال اچکزئی صاحب کے دامن سے لپٹنا شروع ہو گئے ہیں تو حیرت کیسی؟ یہ تو  نوشتہ دیوار تھا۔

کوئی بالی عمر کا الھڑ قسم کا سیاست دان ہوتا تو ہم کہتے کم سن تھا،  بھول ہو گئی۔ یہ تو محمود اچکزئی تھے ۔ سمجھدار اور سیانے ۔ انہوں نے اگر یہ منصب قبول فرمایا تو اس کے ڈراپ سین کو بھی گوارا کر کے ہی فرمایا ہو گا۔ یہ تو دوسروں کی طرح ان کو بھی نظر آ ہی رہا ہو گا کہ اس قافلہ جان و ادا میں جو بھی آیا، دستار سلامت لے کر نہیں لوٹا۔ اس کے بانکے اپنی اور دوسرں کی عزت سے یکساں درجے میں بے نیاز ہیں۔  ڈراپ سین اب کتنا دوڑ کھڑا ہے ، یہ تو معلوم نہیں لیکن یہ طے شدہ بات ہے کہ ہونی ہو کر رہنی ہے اور ہونی میں اب زیادہ دیر نہیں۔ آثار نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔

یہی عالم پارٹی کے چیئرمین جناب بیرسٹر گوہر کا ہے۔ ان کے ساتھ بھی جو کچھ ہونا شروع ہو گیا ہے دیکھا تو اچھا نہیں لگا۔ لیکن ان سے بھی کوئی ہمدردی نہیں ہے کیونکہ وہ جس قافلے کے سربراہ حاضر الوقت ہیں وہاں بالعموم عزت و مروت کو ایک غیر ضروری تکلف سمجھا جاتا ہے۔ وہ بھی سب کچھ جانتے ہوئے اس قافلہ انقلاب کے اعلیٰ منصب پر تشریف فرما ہو گئے کہ اب مل ہی رہی ہے تو کفران نعمت کون کرے۔ ان کے ساتھ بھی جو کچھ ہو رہا ہے وہ  اس منصب کے پیکج کا منطقی نتیجہ ہے۔ برا تو لگ رہا ہے لیکن اچھا بہت لگ رہا ہے۔ شوق دیاں چڑائیاں نیں، چھنڑ کیندی وت۔

مزید پڑھیں: مطالعہ پاکستان : بنیان مرصوص ایڈیشن

بیرسٹر گوہر کا معاملہ  ہے کہ وہ سیاست میں طفل مکتب ہیں، کارکنان سے عزت افزائی کروا بھی لی تو کیا ہوا، ان کا سیاسی  پروفائل تو بن گیا۔ لیکن محمود اچکزئی صاحب جیسے بزرگ سیاست دان سے ضرور پوچھا جانا چاہے کہ جناب لطف آ رہا ہے؟

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا اور ایران کے درمیان پیشرفت: آبنائے ہرمز میں ’پروجیکٹ فریڈم‘ عارضی طور پر معطل

اگر مولانا فضل الرحمان اپوزیشن لیڈر ہوتے؟

پنجاب میں ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے درمیان بننے والی کوآرڈینیشن کمیٹی کیوں ختم کردی گئی؟

نیا ڈیٹنگ ٹرینڈ: لوگ اپنے سابقہ پارٹنرز کے اے آئی ورژن بنانے لگے، ماہرین پریشان

وائٹیلٹی ٹی 20 بلاسٹ 2026: پاکستان کے ’ٹو ایلبو‘ مسٹری اسپنر عثمان طارق وارکشائر بیئرز میں شامل

ویڈیو

امریکی صدر کی اسٹریٹجی ناکام، ایران سے مذاکرات کی جلدی

کراٹے کامبیٹ: پاکستان کے شاہ زیب رند نے یوایف سی فائٹر آندرے ایول کو ناک آؤٹ کر دیا

ریاض میں کرکٹ کا بڑا میلہ اختتام پذیر

کالم / تجزیہ

اگر مولانا فضل الرحمان اپوزیشن لیڈر ہوتے؟

انڈین بنگال میں ممتا بنرجی کو کیسے ہرایا گیا؟

ٹریل 5: فطرت، تنہائی اور خودکلامی