اس مرتبہ قربانی کے بیل اور بکروں کی قیمت کیا ہوگی؟

منگل 28 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا بھر میں لاکھوں مسلمان ہر سال سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے عید الاضحیٰ کے موقعے پر جانوروں کی قربانی کرتے ہیں اور اس حوالے سے تیاریوں کا آغاز ایک ماہ قبل ہی ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں 50، 50 لاکھ روپے مالیت کے قربانی کے جانور کیسے دکھتے ہیں؟

چونکہ بچوں کو جانوروں سے زیادہ لگاؤ ہوتا ہے اس لیے عید الاضحیٰ قریب آتے ہی بچے والدین سے قربانی کے لیے جلد از جلد اور اچھا سا جانور گھر لانے کی ضد شروع کر دیتے ہیں۔

ملک بھر میں مہنگائی کے باعث جس طرح ہر چیز کی قیمت بڑھ گئی ہے اسی طرح جانوروں کی قیمتوں میں بھی آئے روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

عید الاضحیٰ کے قریب آنے کے باعث جانوروں کی قیمتوں میں بھی معمول سے ہٹ کر 20 سے 30 فیصد تک اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس مرتبہ بھی بکروں کی قیمت میں تو معمولی اضافہ ہوا ہے البتہ بیل کی قیمت میں 20 ہزار روپے تک کی کمی کا امکان ہے۔

سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے لیے پاکستان میں لوگ عموماً بکرے یا بیل کی قربانی کرتے ہیں۔ شوقین لوگ تو جانور خرید کر گھر لاتے اور پھر قربان کرتے ہیں تاہم ایسے افراد جو جانوروں کو وقت نہ دے سکتے ہوں یا جن کے پاس جگہ نہ ہو وہ مساجد میں یا دیگر فلاحی اداروں میں اپنے حصے کی رقم دے دیتے ہیں اور بدلے میں عید کے روز ان کو جانور ذبح ہونے کے بعد گوشت دے دیا جاتا ہے۔

گزشتہ سال ایک مناسب بکرے کی قیمت 50 ہزار روپے سے 60 ہزار روپے کے درمیان تھی جس میں سے 25 کلو کے قریب گوشت نکل آتا تھا۔ تاہم اس مرتبہ اندازاً 25 کلو گوشت والے بکرے کی قیمت 60 ہزار روپے سے 70 ہزار روپے تک ہو گئی ہے۔

مزید پڑھیے: ‘اب جانوروں کی ذمہ داری ہماری’، پشاور میں قربانی کے جانوروں کے لیے پارکنگ

اسی طرح قد میں بڑے، خوبصورت اور وزنی بکرے کی قیمت ڈیڑھ لاکھ روپے تک تھی جو کہ اس مرتبہ ایک لاکھ 60 ہزار روپے تک ہونے ہے۔

زیادہ قیمت والے بکرے شوقین افراد ہی قربان کرتے ہیں اور ان بکروں کی دیکھ بھال پر بھی ماہانہ 10 ہزار روپے سے زائد کا خرچ آتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ مہنگے داموں فروخت ہوتے ہیں۔

بیل

گزشتہ سال تقریباً 3 من گوشت والے ایک مناسب بیل کی قیمت ایک لاکھ 80 ہزار روپے سے 2 لاکھ روپے تک تھی تاہم عید سے ایک 2 دن قبل جانوروں کی بڑی تعداد منڈیوں میں موجود تھی اور خریدار کم تھے جس وجہ سے ریٹ کم ہو گئے تھے اور ایک ایک بیل کی قیمت میں 30 سے 50 ہزار روپے تک کا فرق پڑا تھا۔

مزید پڑھیں: قربانی کے جانوروں کے دانتوں کی پہچان کیسے کی جاتی ہے؟

 بارڈر کی بندش کے باعث جانور ایکسپورٹ بھی نہیں ہوئے جس وجہ سے منڈیوں میں جانورون کی تعداد بھی زیادہ ہونے کا امکان ہے ان وجوہات کے باعث رواں سال یہ قیمت 2 لاکھ روپے سے کم کم رہنے کا امکان ہے اس سال مساجد نے 7 حصوں کے بیل میں ایک حصے کی قیمت 28 سے 32 ہزار روپے مقرر کی ہے۔

پاکستان میں زیادہ تر لوگ گائے یا بیل کی قربانی کرنا پسند کرتے ہیں۔ چونکہ بڑے جانور میں 7 افراد کے حصے ہوتے ہیں اس لیے بڑی رقم کا بیل لینا زیادہ مشکل بھی نہیں ہوتا۔

کراچی، لاہور، راولپنڈی اور اسلام آباد سمیت بڑے شہروں میں سینکڑوں کی تعداد میں کیٹل فارمز موجود ہیں جہاں بڑے جانوروں کو پورا سال پالا جاتا ہے اور عید پر فروخت کر دیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: قربانی کے جانوروں کی آن لائن خریداری میں ہونے والے فراڈ سے کیسے بچا جائے؟

ان فارمز پر شوقیہ رکھے گئے بیلوں کی قیمت 5 لاکھ روپے سے 50 لاکھ روپے تک ہے جبکہ کراچی میں چند بیلوں کی قیمتیں ایک کروڑ روپے سے زائد بھی ہوتی ہیں اور ان کی قیمتوں میں ہر سال اضافہ ہی دیکھا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp